Times of Pakistan

قومی اسمبلی سے استعفے کے بعد اختر مینگل نے تنخواہیں اور مراعات واپس کردیں

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

بی این پی سربراہ نے تنخواہوں کی واپسی کے لیے 78 لاکھ 92 ہزار 725 روپے کا چیک قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھجوادیا۔

شائع 09 جولائ 2026 05:16pm

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے رکنِ قومی اسمبلی کی حیثیت سے حاصل کی گئی تنخواہیں اور مراعات قومی خزانے کو واپس کردی ہیں۔

جمعرات کے روز بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے تنخواہوں کی واپسی کے لیے 78 لاکھ 92 ہزار 725 روپے کا چیک قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھجوادیا اور اس حوالے سے انہوں نے ایک خط بھی لکھا ہے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو لکھے گئے خط میں سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ وہ 3 ستمبر 2024 سے 11 فروری 2026 تک کے عرصے کی تمام تنخواہیں واپس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 78 لاکھ 92 ہزار 725 روپے قومی خزانے میں واپس کیے جا رہے ہیں۔

خط میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ستمبر 2024 میں استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے اپنے بینک اکاؤنٹ سے کوئی تنخواہ یا الاؤنس وصول نہیں کیا۔ سربراہ بی این پی نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے درخواست کی کہ ان کے پارلیمانی بینک اکاؤنٹ میں موجود تمام رقم قومی خزانے میں منتقل کی جائے۔

سردار اختر مینگل نے اپنے خط میں مزید کہا کہ وہ عوامی خدمت میں دیانت داری، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہیں۔

واضح رہے کہ سردار اختر مینگل نے بلوچستان کے مسائل پر پارلیمنٹ کے مؤقف کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-256 قلعہ سیف اللہ کی نشست سے استعفیٰ دیا تھا۔

بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے 11 فروری 2026 کو سردار اختر مینگل کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور کر لیا تھا۔

اس حوالے سے ایک سینئر صحافی وقار ستی نے کہا کہ استعفیٰ دے کر مراعات سمیٹنے والوں کے لیے یہ خبر قابلِ غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ سردار اختر مینگل نے 78 لاکھ 92 ہزار روپے ”رضاکارانہ“ نہیں بلکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حساب مانگنے کے بعد واپس کیے، اگر ریکارڈ اور آڈٹ نہ بولتے تو شاید یہ رقم بھی خاموشی سے خزانے سے باہر ہی رہتی۔

Read Entire Article