ARTICLE AD BOX
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
شائع 09 جولائ 2026 06:51pm
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے تین اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔ خوزستان میں آئی آر جی سی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کو صوبے کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار جان سے گئے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ایرانی خبر رساں ادارے میزان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے تین اہلکار شہید ہوگئے۔
خوزستان میں آئی آر جی سی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کو صوبے کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے مسلسل دوسرے روز ایران کے خلاف کارروائیاں کیں، جب کہ تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ تمام جہاز ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں اور تہران کی جانب سے مقرر کردہ راستہ استعمال کریں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز پاکستان کی ثالثی میں 17 جون کو طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھوتا اب مؤثر نہیں رہا۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی آر جی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مشہد جانے والے دو اہم پلوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایرانی بحری اور فضائی فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کویت میں عریفجان اور علی السالم جب کہ بحرین میں الجفیر اور شیخ عیسیٰ کے امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا مقصد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے عالمی توجہ ہٹانا تھا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی گئی تو خطے میں موجود دیگر امریکی اڈے بھی ایرانی ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔
اگرچہ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں اور خوزستان میں ہونے والے نقصانات کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم حالیہ پیش رفت نے خطے میں ایک نئی اور وسیع فوجی محاذ آرائی کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا بڑھتا ہوا سلسلہ اس تنازع کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں ایک جانب فوجی کارروائیوں کی حمایت اور دوسری جانب مکمل جنگ سے گریز کا عندیہ دیا گیا، خطے کی آئندہ صورتِ حال کے حوالے سے غیر یقینی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
امریکی حکام نے تاحال خوزستان میں حملوں اور ایرانی جانی نقصان کے دعوؤں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جب کہ زمینی صورتِ حال سے متعلق معلومات محدود ہونے کے باعث ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق بھی ممکن نہیں ہو سکی۔
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·