ARTICLE AD BOX
وہ امریکی ورجن آئی لینڈز میں واقع ان کے نجی جزیرے سمیت مختلف مقامات پر انتظامی ذمہ داریاں نبھاتیں اور ان کے نجی طیارے میں سفر کرتی تھیں۔
شائع 27 جولائ 2026 10:25am
امریکا کے بدنام سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی زندگی ایک بار پھر خبروں میں ہے، لیکن اس بار توجہ کا مرکز خود ایپسٹین نہیں بلکہ ان کی قریبی ساتھی، بیلاروس میں پیدا ہونے والی ڈینٹسٹ ڈاکٹر کیرینا شولیاک ہیں۔ 2026 کے آغاز میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل تحقیقاتی ریکارڈ نے دونوں کے تعلق سے متعلق کئی نئی تفصیلات سامنے لائی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ایپسٹین نے 2019 میں اپنی موت سے چند روز قبل کیرینا شولیاک کو تقریباً 10 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کے ٹرسٹ کا بنیادی وارث نامزد کیا تھا۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ایپسٹین کے بیشتر اثاثے منجمد کیے جانے کے باعث امکان ہے کہ یہ دولت متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی پر خرچ ہوگی، نہ کہ شولیاک کو ملے گی۔
کیرینا شولیاک بیلاروس سے طالب علم ویزے پر امریکا آئیں، جہاں ان کی ملاقات 2011 میں ایپسٹین سے ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر 21 برس جبکہ ایپسٹین 58 برس کے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق ایپسٹین نے نہ صرف ان کی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں مدد کی بلکہ انہیں امریکا میں رہائش برقرار رکھنے کے لیے بھی مختلف طریقوں سے تعاون فراہم کیا۔
تحقیقاتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی میں داخلے سے لے کر دندان سازی کی تعلیم مکمل کرنے اور مختلف امریکی ریاستوں میں لائسنس حاصل کرنے تک ایپسٹین نے ان کے اخراجات اور دیگر معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دوران وہ ایپسٹین کی ذاتی زندگی اور کاروباری امور کا بھی اہم حصہ بنتی گئیں۔
دستاویزات کے مطابق شولیاک ایپسٹین کے گھروں، عملے اور جائیدادوں کے انتظام میں سرگرم رہتی تھیں۔ وہ امریکی ورجن آئی لینڈز میں واقع ان کے نجی جزیرے سمیت مختلف مقامات پر انتظامی ذمہ داریاں نبھاتی تھیں اور ملازمین انہیں ایپسٹین کی قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار کرتے تھے۔
ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے شولیاک اور ان کے خاندان کو لاکھوں ڈالر کی مالی مدد فراہم کی، جبکہ ان کی والدہ کے علاج کے اخراجات بھی برداشت کیے۔ ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ شولیاک نے کئی مواقع پر ایپسٹین کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے محبت بھرے جذبات کا اظہار بھی کیا۔
جاری شدہ ریکارڈ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شولیاک ایپسٹین کی بعض سرگرمیوں سے آگاہ تھیں۔ وہ ان کے نجی طیارے میں سفر کرتی تھیں اور مختلف جائیدادوں پر بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ ایک ای میل میں انہوں نے ایپسٹین سے درخواست کی تھی کہ اگر وہ دوسری خواتین سے تعلقات رکھتے ہیں تو انہیں ان معاملات سے دور رکھا جائے۔
اس کے باوجود امریکی تفتیش کاروں نے کیرینا شولیاک پر ایپسٹین کے جنسی جرائم یا انسانی اسمگلنگ میں شریک ہونے کا کوئی الزام عائد نہیں کیا۔ دستیاب ریکارڈ میں انہیں شریکِ جرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آئی نے اس معاملے میں ان سے باضابطہ پوچھ گچھ کی ہو۔
ایپسٹین کی موت کے بعد شولیاک نے عوامی زندگی سے خود کو الگ رکھا اور بطور ڈینٹسٹ اپنا کیریئر جاری رکھا۔ تاہم 2026 میں سرکاری دستاویزات منظرعام پر آنے کے بعد ان کی شناخت دوبارہ خبروں کا حصہ بن گئی اور میڈیا کی توجہ ایک بار پھر ان پر مرکوز ہو گئی۔
امریکی محکمہ انصاف کی تازہ دستاویزات کسی نئے مجرمانہ الزام کی نشاندہی نہیں کرتیں، لیکن وہ ایک ایسی خاتون کی تصویر ضرور پیش کرتی ہیں جس کی تعلیم، کیریئر، مالی حیثیت اور طرزِ زندگی پر جیفری ایپسٹین کا غیرمعمولی اثر رہا۔ اگرچہ ایپسٹین نے انہیں اپنی وسیع جائیداد کا وارث بنایا تھا، لیکن موجودہ قانونی صورتحال میں اس دولت کا بڑا حصہ متاثرین کے معاوضے کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔
.png)
2 hours ago
1




English (US) ·