Times of Pakistan

اگر آبنائے ہرمز کھلوا سکتے ہیں تو کشمیر بھی کھلوائیں, بلاول بھٹو کی حکومت پر سخت تنقید

1 hour ago 3
ARTICLE AD BOX

آزاد کشمیر کے بحران پر مصالحتی کمیشن بنانے کا مطالبہ، وفاقی وزیر کے بیان پر بھی وزیراعظم سے وضاحت طلب

شائع 17 جولائ 2026 07:15pm

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورت حال کو ریاست پاکستان اور سیاست دانوں کے لیے امتحان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی بحران کا حل صرف مذاکرات اور سیاسی عمل سے ہی ممکن ہے، جبکہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے۔

ڈڈیال میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اس نوعیت کے حالات انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف کشمیری عوام ہی نہیں بل کہ ریاست پاکستان اور سیاست دانوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے، کیونکہ سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بل کہ عوام کی نمائندگی اور ان کے مسائل حل کرنے کا ذریعہ ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کی آواز اسلام آباد تک پہنچائیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں بل کہ گلگت بلتستان کو بھی اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، جب کہ ہر مسئلے کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا اور اگر کسی کشمیری کی آنکھ میں آنسو ہوگا تو ہماری آنکھوں میں بھی خون کے آنسو ہوں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے مصالحتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور احتجاج کرنے والے دونوں کمیشن کی رپورٹ آنے تک اپنے اپنے اقدامات روک دیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اب تک نہ حکومت اور نہ ہی احتجاج کرنے والوں نے ان کی تجویز کا جواب دیا ہے۔ اگر ان کی تجویز قبول نہیں تو پھر بتایا جائے کہ اس بحران کا متبادل حل کیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ نہ اسلام آباد کی جیب میں ہے اور نہ ہی پنڈی کی، بل کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں بھی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو شکست دے گی اور 27 جولائی کے انتخابات میں عوام اس کا عملی ثبوت دیں گے۔

انہوں نے خطاب میں کہا کہ وہ میرپور، کوٹلی، ڈڈیال اور راولاکوٹ سمیت پورے آزاد کشمیر کے عوام کو کشمیری مانتے ہیں، جب کہ مہاجرین کی نشستوں پر بھی پیپلز پارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

بلاول بھٹو نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کا نام لیے بغیر ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے متنازع بیان دیا، انہیں وضاحت کا موقع بھی ملا، لیکن تیس دن گزرنے کے بعد بھی وہ آج تک اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وزیر آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ میرپور، کوٹلی اور راولاکوٹ کشمیر کا حصہ نہیں تو پھر اسے وزارت چھوڑ دینی چاہیے۔

بلاول نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم قوم کو بتائیں کہ آیا یہ وفاقی وزیر کا ذاتی مؤقف ہے یا وفاقی حکومت کی سرکاری پالیسی؟ ان کے بقول دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ اگر یہ حکومتی مؤقف نہیں تو ایسے وزیر کو کابینہ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں، بل کہ اسے فوری عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ایسی ناانصافی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے ایک اور وفاقی وزیر کے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ ”آزاد کشمیر کی 12 نشستیں ہماری جیب میں ہیں“، اور کہا کہ ایسی ذہنیت رکھنے والوں کو کشمیر کے عوام کے جذبات اور مسائل کی کوئی پروا نہیں۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ہی آزاد کشمیر کے حقِ حاکمیت کی جدوجہد کر رہی ہے اور انتخابات کے بعد آئینی کنونشن بلا کر تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔

Read Entire Article