ARTICLE AD BOX
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ خلیجی طاقتیں اب امریکا کے فوجی اڈوں کے لیے ڈھال کا کردار ادا نہیں کر سکیں گی اور امریکا کو خطے میں اب محفوظ پناہ گاہ بھی حاصل نہیں رہے گی۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان منگل کے روز ان کے ٹیلیگرام چینل پر جاری کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک پر بات چیت جاری ہے۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای جنہوں نے مارچ میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ منصب سنبھالا تھا، انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وقت کا پہیہ پیچھے نہیں گھومتا، اور خطے کے ممالک اور علاقے اب امریکی اڈوں کے لیے ڈھال کا کردار ادا نہیں کریں گے۔
ان کے مطابق امریکا کو اب برائی کے لیے یا خطے میں فوجی اڈے قائم کرنے کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ حاصل نہیں رہے گی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں اس وقت منصب سنبھالا تھا جب ان کے والد اور اس وقت کے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای تاحال عوامی سطح پر تاحال سامنے نہیں آئے ہیں۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے روسی میڈیا آؤٹ لیٹ آر ٹی وی آئی کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران میں ماسکو کے سفیر نے بتایا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے اندر ہی موجود ہیں، تاہم وہ ’قابلِ فہم وجوہات کی بنا پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہو رہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی اور حالت کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیاں جاری ہیں، کیونکہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران وہ ایک بار بھی عوام کے سامنے نہیں آئے۔
ان کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام بیانات، جن میں 12 مارچ کا پہلا خطاب اور 20 مارچ کو نوروز کا پیغام شامل تھا، تحریری صورت میں جاری کیے گئے جنہیں سرکاری ٹی وی کے اینکرز نے پڑھ کر سنایا تھا۔
.png)
10 hours ago
3




English (US) ·