ARTICLE AD BOX
پیپلزپارٹی حکومت سازی کے لیے درکار مزید 3 ارکان کی حمایت کے لیے پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم سے بھی رابطے میں ہے۔
گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا معاملہ دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ الیکشن میں کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی ہے۔ مسلم لیگ ن نے حکومت سازی کے لیے پیپلزپارٹی کی حمایت کا اعلان کیا تھا لیکن تقریباً دو ہفتے بعد بھی اس حوالے سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔
سات جون کو ہونے والے عام انتخابات کے تمام نتائج سامنے آچکے ہیں جس کے مطابق کسی بھی جماعت کو تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت (13 نشستیں) حاصل نہیں ہوسکی ہے۔
تمام 24 حلقوں کے سامنے آنے والے انتخابی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی 11 سیٹوں کے ساتھ پہلے جب کہ مسلم لیگ ن 6 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر ہے۔ آزاد امیدوار 6 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں 2 پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ہیں جب کہ ایک نشست مجلس وحدت المسلمین کے حصے میں آئی ہے۔
منگل کے روز چار آزاد امیدواروں کی استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت کے بعد گلگت بلتستان کے سیاسی منظرنامے میں نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ الیکشن میں کوئی بھی نشست جیتنے میں ناکام، آئی پی پی آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے الیکشن کے اگلے روز اعلان کیا تھا کہ اکثریتی جماعت ہونے کی وجہ سے ان کی پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنائے گی۔
بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے لہٰذا اب رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں اور عوام کے فیصلوں کا احترام کیا جائے۔‘
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے مجموعی طور پر 17 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر 33 نشستوں پر مشتمل ہے، ان میں 24 جنرل نشستیں ہیں جن پر براہِ راست عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مخصوص نشستوں میں خواتین کے لیے 6 جب کہ ٹیکنوکریٹس کے لیے 3 نشستیں مختص ہیں اور سیاسی جماعتوں کو ان کی جیتی گئی جنرل سیٹوں کے تناسب سے دی جاتی ہیں۔
پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت ہونے کی وجہ سے حکومت بنانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے اور حکومت سازی کے لیے اس کے پاس دو راستے موجود ہیں جس میں سے پہلا راستہ مسلم لیگ ن کی حمایت ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ مسلم لیگ ن گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ خود اپوزیشن بینچز پر بیٹھے گی مگر وزیرِاعلیٰ کے انتخاب میں اپنے 6 ووٹ پیپلز پارٹی کو دے گی۔
اگر ایسا ہوجاتا ہے تو مخصوص نشستیں ملنے سے قبل ہی پیپلزپارٹی کو اسمبلی میں 17 ارکان کی حمایت حاصل ہوجائے گی، جس میں مخصوص نشستوں کے بعد مزید اضافہ ہوجائے گا۔ یہ بازگشت بھی سامنے آئی تھی کہ اس فارمولے کے تحت وزیرِاعلیٰ کا عہدہ پیپلزپارٹی جب کہ بعض آئینی عہدے ن لیگ کو مل سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے متناسب نمائندگی کے فارمولے کے تحت پیپلز پارٹی کو 11 جنرل نشستوں کی بنیاد پر مجموعی طور پر 4 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے، جن میں 3 خواتین کی نشستیں اور 1 ٹیکنوکریٹ کی نشست شامل ہوگی۔
یوں اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اپنے اراکین کی کُل تعداد 11 سے بڑھ کر 15 ہو جائے گی اور اس صورت میں اگر پیپلزپارٹی کو ن لیگ ک یقینی حمایت حاصل ہوجاتی ہے تو پی پی باآسانی حکومت بنا سکتی ہے۔
تاہم آزاد امیدواروں کی آئی پی پی میں شمولیت کے بعد پیپلزپارٹی کے ارکان کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آرہے ہیں جس سے یوں لگ رہا ہے کہ اس معاملے پر پی پی اور ن لیگ کے درمیان کوئی ڈیڈلاک موجود ہے۔
پیپلز پارٹی کے پاس آئی پی پی یا پی ٹی آئی اور مجلس وحدت المسلمین کی حمایت سے حکومت کا آپشن بھی موجود ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی نے ن لیگ پر اکتفا کرنے کے بجائے پی ٹی آئی اور مجلس وحدت المسلمین سے بھی رابطہ کیا ہے جب کہ آئی پی پی کی جانب سے بھی پیپلزپارٹی سے رابطے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے ایک ٹی وی شو میں تصدیق کی کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان مل کر حکومت بنانے پر اتفاق ہوا تھا مگر اس دوران صورت حال اچانک تبدیل ہوگئی۔
حکومت سازی کے لیے ممکنہ اتحاد سے متعلق سوال پر نیئر بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں سے بھی رابطے میں ہے تاہم اس معاملے پر حتمی فیصلہ پارٹی قیادت ہی کرے گی۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے الیکشن کے دوران پیپلزپارٹی پر تنقید اور خود حکومت بنانے کی خواہش کو آئی پی پی کے اچانک سامنے آنے پر دوبارہ تقویت ملی ہے، تاہم اعداد و شمار اور ملکی سیاسی ماحول اس اتحاد کی راہ میں بظاہر رکاوٹ ہوسکتے ہیں۔
یعنی اگر کوئی جماعت پیپلز پارٹی کو اقتدار سے باہر رکھ کر کوئی متبادل بلاک بنانا بھی چاہے تو اعداد و شمار اور سیاسی منظر نامے میں ایسا ہونا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔
ن لیگ اور آئی پی پی کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 10 نشستیں ہیں جو حکومت سازی کے لیے درکار 13 نشستوں سے کم ہیں۔ اس ہندسے کو پورا کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کو ایم ڈبلیو ایم کے 1 اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 2 آزاد ارکان کی ضرورت پڑے گی۔
وفاق اور صوبوں میں پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم کا ن لیگ اور آئی پی پی کے ساتھ شدید سیاسی اور نظریاتی اختلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں اس اتحاد کی کامیابی ممکن نظر نہیں آرہی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام حلقوں کے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے اگلے 3 سے 5 دنوں کے اندر سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں الاٹ کر دی جائیں گی، جس کے بعد جون کے آخری ہفتے میں اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب کر کے نئے وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب مکمل کر لیا جائے گا۔
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·