ARTICLE AD BOX
امریکہ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دائمی استحکام صرف عسکری ذرائع سے ممکن نہیں
ستارہ امتیاز (ملٹری) مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کئی دہائیوں سے ایک بنیادی حقیقت کے گرد گھومتی رہی ہے: امریکہ اور اسرائیل کا غیر معمولی اتحاد۔ سرد جنگ کے زمانے سے لے کر آج تک واشنگٹن نے اسرائیل کو عسکری، سفارتی اور مالی حمایت فراہم کی، جبکہ اسرائیل نے خود کو امریکہ کا سب سے قابلِ اعتماد علاقائی اتحادی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن حالیہ مہینوں میں ایسے اشارے سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات میں مکمل یکسانیت کا تصور اب ماضی کی بات بنتا جا رہا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر تنقید کے جواب میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا تعین واشنگٹن کرے گا، نہ کہ کوئی بیرونی حکومت۔ یہ بیان محض ایک وقتی سیاسی ردعمل نہیں بلکہ امریکی سوچ میں آنے والی ممکنہ تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ریاستوں کے درمیان دوستی یا دشمنی مستقل نہیں ہوتی، بلکہ مستقل ہوتے ہیں تو صرف قومی مفادات۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات بھی اسی اصول کے تابع ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیل ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا مؤقف رہا ہے کہ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور اس کے اتحادی گروہوں کی سرگرمیاں اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ دوسری طرف امریکہ بھی طویل عرصے تک اسی نقطہ نظر کا حامی رہا۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ مسلسل جنگوں، خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی، توانائی کے بحران اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث اس نتیجے پر پہنچتا نظر آتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دائمی استحکام صرف عسکری طاقت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن نے حالیہ عرصے میں سفارت کاری، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو زیادہ اہمیت دینا شروع کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی اور اسرائیلی ترجیحات میں فرق نمایاں ہونا شروع ہوا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی سیاسی شناخت کا بڑا حصہ ایران مخالف پالیسیوں پر استوار کیا ہے۔ ان کی سیاست کا مرکزی نکتہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اسرائیل کو سخت طاقت کے ذریعے اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ لیکن اگر امریکہ خطے میں سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور ایران کے ساتھ کسی حد تک مفاہمت کی راہ اختیار کرتا ہے تو اسرائیل کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے بعض حلقوں میں امریکی پالیسیوں کے حوالے سے بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کا ضامن تو رہے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن ہر معاملے میں اسرائیل کے مؤقف کو من و عن قبول کرے گا۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی امریکہ اسرائیل سے دور ہو رہا ہے ؟ اس سوال کا جواب مکمل "ہاں" یا "نہیں" میں نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات اب بھی دنیا کے مضبوط ترین اسٹریٹیجک تعلقات میں شمار ہوتے ہیں۔ اسرائیل کو اربوں ڈالر کی امریکی فوجی امداد حاصل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس تعاون انتہائی گہرا ہے۔ دفاعی شعبے میں اشتراک بھی بدستور جاری ہے۔ تاہم ایک اور حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے کہ امریکہ اب اپنی علاقائی حکمت عملی کو صرف اسرائیلی نقطہ نظر کے مطابق ترتیب دینے کے لیے تیار نہیں دکھائی دیتا۔ واشنگٹن کے لیے اب خطے میں استحکام، عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور بڑی طاقتوں کے درمیان توازن زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تبدیلی مکمل علیحدگی نہیں بلکہ ترجیحات کی ازسرِ نو ترتیب ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنی عسکری صلاحیتوں کو غیر معمولی حد تک مضبوط بنایا ہے۔ جدید فضائیہ، میزائل دفاعی نظام، سائبر صلاحیتیں اور جدید انٹیلی جنس نیٹ ورک اسے خطے کی طاقتور ریاستوں میں شامل کرتے ہیں۔ لیکن اکیسویں صدی میں صرف عسکری طاقت کافی نہیں۔ دنیا اب اس بات کو بھی اہمیت دیتی ہے کہ کوئی ریاست عالمی قوانین، انسانی حقوق اور علاقائی استحکام کے حوالے سے کیا کردار ادا کرتی ہے۔ غزہ، لبنان اور دیگر تنازعات نے اسرائیل کی عالمی ساکھ پر اثر ڈالا ہے۔ یورپ، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل کے سامنے آج سب سے بڑا سوال عسکری نہیں بلکہ سفارتی ہے: کیا وہ اپنے لیے ایسا علاقائی ماحول پیدا کر سکتا ہے جس میں مستقل تصادم کی بجائے پائیدار امن کو فروغ ملے؟ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے ایران، سعودی عرب، قطر، ترکی، چین اور امریکہ سمیت متعدد اہم ممالک کے ساتھ قریبی رابطے موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانے میں پاکستان کا کردار نہایت قابل توجہ اور نتیجہ خیز رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں، یہی سوچ اسے خطے میں ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سفارت کاری کی اصل کامیابی دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ جنگ کو روکنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی ملک دو متحارب فریقوں کو بات چیت کی میز پر لا سکے تو یہ عسکری کامیابی سے کم نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کا نیا منظرنامہ آج مشرقِ وسطیٰ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ عرب ممالک اپنی معیشتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔ خلیجی ریاستیں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی پر توجہ دے رہی ہیں۔ ایران معاشی دباؤ سے نکلنے کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ امریکہ خطے میں ایک اور بڑی جنگ سے بچنا چاہتا ہے۔ چین اور روس بھی استحکام کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ تجارت اور توانائی کے عالمی راستے محفوظ رہیں۔ ان حالات میں وہ ممالک زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے جو محاذ آرائی کے بجائے رابطوں کے پل تعمیر کر سکیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کوئی بنیادی دراڑ پڑ چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اب بھی مضبوط ہیں اور مستقبل قریب میں ان کے مکمل طور پر تبدیل ہونے کے امکانات کم ہیں۔ ہاں، یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اب اپنے قومی مفادات کو اسرائیل سمیت ہر دوسرے اتحادی کے مفادات سے بالاتر رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن بعض معاملات میں زیادہ خودمختار اور متوازن پالیسی اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے۔ اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ خطے میں مسلسل تصادم کی حکمت عملی پر قائم رہتا ہے یا بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے مطابق اپنی سفارتی حیثیت کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں طاقت اہم ہوتی ہے، لیکن طاقت سے بھی زیادہ اہم بصیرت ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں اور ریاستیں طویل عرصے تک کامیاب رہتی ہیں جو وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھ کر اپنی حکمت عملی کو ڈھال لیتی ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ اسی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، اور آنے والے برس یہ طے کریں گے کہ اس خطے کا مستقبل جنگوں کے ذریعے لکھا جائے گا یا سفارت کاری کے ذریعے۔n
.png)
7 hours ago
1





English (US) ·