ARTICLE AD BOX
مجھے مصنوعات میں کہیں زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی، میں نے اس میں سے درمیانی راستہ نکال کر اضافہ کیا، وزیراعظم کا قوم سے خطاب
شائع 09 مارچ 2026 09:26pm
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اس وقت شدید جنگی صورت حال میں ہے، ہمیں مغربی سرحد پر خطرے کا سامنا ہے، امن کولاحق خطرات ہم سب کیلئے گہری تشویش کا باعث ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان معاملات تدبراورسفارت کاری سے حل کرنے کے لیے کوشاں ہے، ایران میں اسرائیلی حملوں کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کے اہلِ خانہ اور ایرانی شہریوں کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا، یہ خطرات ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
انھوں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب، عمان، قطر اور دبئی میں ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، پاکستان اس آزمائش کی گھڑی میں برادر ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتے ہیں۔
انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ نے دیکھا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر تھی، جو اَب بڑھ کر 100 ڈالر تک جا پہنچی ہے، ہماری صنعتوں کا انحصار خلیج سے آنے والے تیل پر ہے، حالات یونہی بگڑتے رہے تو تیل کی قیمتیں قابو سے باہر ہو جائیں گی۔ عالمی منڈی میں تیل اورگیس کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیارمیں نہیں، مشکل حالات آج ایک مرتبہ پھرعالمی سطح پر پیدا ہو چکے ہیں، جس کےاثرات ہم پر مرتب ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت نے بہتری کے لیے سخت فیصلے کیے، توانائی اور دیگر شعبوں میں اصلاحات کیں، اس اقدام کا مقصد توانائی اور دیگر شعبوں کی بہتری تھا، جنگ کے منفی اثرات توانائی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں، جنگ کے اثرات دنیا سمیت ہم پر بھی پڑے ہیں، یقین دلاتا ہوں، حکومت معیشت کے استحکام کی کوشش کر رہی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دل پر پتھر رکھ کر اضافہ کیا۔
.png)
4 days ago
10







English (US) ·