ARTICLE AD BOX
پشاور ہائی کورٹ نے منشیات کے مقدمات میں سزا یافتہ قیدیوں کی سزاؤں میں رعایت (رمییشن) پر پابندی عائد کرنے والی وفاقی قانون کی ترامیم کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ سی این ایس اے 1997 کے تحت سزا پانے والے قیدیوں کو سابقہ قانونی نظام کے مطابق تمام مراعات اور فوائد فراہم کیے جائیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 44 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا ہے کہ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس (ترمیمی) ایکٹ 2022 کے تحت شامل کی گئی دفعہ 9اے ون آئین کے آرٹیکلز 4، 8، 9، 14، 25 اور 10-اے سے متصادم ہے اور آئینی جانچ پر پوری نہیں اترتی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی کہ سی این ایس اے 1997 کے تحت سزا یافتہ قیدیوں کو ماضی میں حاصل کسی بھی قسم کی رعایت، سزا میں کمی یا اصلاحی مراعات واپس نہیں لی جا سکتیں کیونکہ یہ قانون کے تحت حاصل شدہ حقوق ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے متعلقہ جیل حکام کو حکم دیا کہ ایسے تمام قیدی جنہیں صرف متنازع ترامیم کی بنیاد پر سزا میں چھوٹ یا دیگر مراعات سے محروم کیا گیا، ان کے مقدمات پر فوری طور پر دوبارہ غور کیا جائے اور اگر ان کا جیل ریکارڈ اور چال چلن تسلی بخش ہو تو انہیں سابقہ قانون کے مطابق تمام فوائد دیے جائیں۔ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے تفصیلی فیصلہ تحریر کیا اور بینچ نے مزید ہدایت کی کہ صوبائی اور وفاقی جیل حکام سی این ایس اے کے تحت سزا یافتہ قیدیوں کے تمام زیر التوا اور مسترد شدہ کیسز کا ازسرنو جائزہ لیں اور اس فیصلے پر عمل درآمد کی رپورٹ 45 روز کے اندر پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے سامنے پیش کریں۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ سزا میں رعایت کوئی خیرات یا سرکاری عنایت نہیں بلکہ قیدی کی قانونی کمائی ہوتی ہے جو ایک مستقل حق کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے، جیل کا دروازہ بنیادی حقوق کے خاتمے کی سرحد نہیں، انسانی وقار اور اصلاح کی امید سزا کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ ایک مہذب قانونی نظام کو جرم کے خلاف سخت ہونا چاہیے، تاہم اسے انسان کے اندر موجود اصلاح اور تبدیلی کی صلاحیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ میں یہ درخواستیں مختلف جیلوں میں قید محمد ارشد، اقبال شاہ اور دیگر قیدیوں نے دائر کی تھیں اور درخواست گزاروں کے وکلا فواد افضل صافی، فرخانہ مروت، امجد نور اور امجد علی آفریدی عدالت میں پیش ہوئے اور سینئر وکیل شمائل احمد بٹ نے عدالتی معاون (ایمیکس کیوری) کے طور پر خدمات انجام دیں۔
.png)
6 hours ago
1





English (US) ·