ARTICLE AD BOX
کراچی:
پاکستان میں روئی کی پیداوار اپنے عروج کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئی۔ پیداوار میں کمی کے باعث ملک کو اضافی درآمدات اور برآمدی آمدنی میں کمی کی صورت میں سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ بات اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے جاری کردہ "سیڈز آف گروتھ" رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ یہ رپورٹ او آئی سی سی آئی کی زرعی شعبے سے وابستہ رکن کمپنیوں کی آراء اور مشاہدات پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زرعی شعبہ ملکی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 37 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی یا سرمایہ کاری کی کمی کے بجائے ریگولیٹری منظوریوں میں تاخیر اور غیر مستقل پالیسیوں کے باعث پاکستان کی زرعی پیداوار خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے رہ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کاٹن کی پیداوار، جو اپنے عروج کے دور میں تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی تھی، مالی سال 2025-26 میں کم ہو کر تقریباً 68 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں تک رہ گئی، جو حکومت کے ایک کروڑ گانٹھوں کے ہدف سے 34 فیصد کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیاں، کیڑوں کے حملے، ناقص بیجوں کا استعمال اور بعض زرعی ادویات کے اجزا پر مناسب سائنسی متبادل فراہم کیے بغیر عائد کی گئی پابندی، کاٹن کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چونکہ ٹیکسٹائل شعبہ ملکی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتا ہے اور مقامی کاٹن پر انحصار کرتا ہے، اس لیے پیداوار کو 80 سے 90 لاکھ گانٹھوں تک بحال کرنے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ رپورٹ میں مکئی کے شعبے کی استعداد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں ہائبرڈ بیجوں نے فی ایکڑ پیداوار میں تین گنا اضافہ کیا تاہم گزشتہ ماہ وفاقی کابینہ سے منظور ہونے والی قومی بائیوٹیکنالوجی پالیسی پر تاحال عمل درآمد شروع نہیں ہوسکا جس کے باعث بائیوٹیک مکئی کے جدید ہائبرڈ بیج متعارف کرانے میں تاخیر ہو رہی ہے اور اربوں ڈالر مالیت کی مکئی اور جانوروں کے چارے کی برآمدات کے امکانات متاثر ہو رہے ہیں۔
.png)
8 hours ago
1





English (US) ·