ARTICLE AD BOX
جاپان، آسٹریلیا اور برطانیہ نے اس معاملے میں محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے فوجی شرکت سے گریز کیا ہے۔
شائع 16 مارچ 2026 10:09am
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے عالمی تعاون کی اپیل پر اب تک کسی بڑے ملک نے خطے میں بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔ جاپان، آسٹریلیا اور برطانیہ نے بھی اس معاملے میں محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے فوجی شرکت سے گریز کیا ہے۔
امریکی صدرٹرمپ نے اتحادی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے بحری راستے کو محفوظ رکھنے کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی سپلائی عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس اہم گزرگاہ کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر کو آگاہ کیا کہ برطانیہ اس مرحلے پر اس آپریشن میں شامل ہونے کیلئے تیار نہیں۔
اسی طرح آسٹریلیا کی ٹرانسپورٹ وزیر کیتھرین کنگ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ آسٹریلیا آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق آسٹریلیا اس وقت متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے دفاعی تعاون کے تحت طیارے فراہم کر رہا ہے، تاہم بحری جہاز بھیجنا اس منصوبے کا حصہ نہیں۔
ادھر جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائے چی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ جاپان نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری جہاز بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جاپان اپنے قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کیا اقدامات کر سکتا ہے۔
چین نے بھی ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر خاموشی اختیار کر لی، تاہم کہا کہ وہ متعلقہ فریقین سے رابطے بڑھا کر تعمیری کردار ادا کرے گا۔ امریکی اور برطانوی وزراء توانائی نے کہا کہ وہ خطے میں تعاون کے طریقے دیکھ رہے ہیں، جب کہ جنوبی کوریا بھی صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے۔ فرانس پہلے ہی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر چکا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک کثیر ملکی اتحاد بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا باضابطہ اعلان رواں ہفتے کے اوائل میں متوقع ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی ممالک نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مشترکہ اتحاد کے قیام پر ابتدائی طور پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ امریکا اب تک سات ممالک سے رابطہ کر چکا ہے، جن میں شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم کے اتحادی بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک اپنی توانائی کی سپلائی کے تحفظ کے لیے خود بھی کردار ادا کریں کیونکہ ان کی بڑی توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کی اتنی ضرورت نہیں کیونکہ امریکا خود بڑی مقدار میں تیل پیدا کرتا ہے، تاہم دیگر ممالک اپنی توانائی کا بڑا حصہ اسی بحری راستے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ پر دباؤ بڑھتا ہے تو اس سے عالمی تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
.png)
1 hour ago
1





English (US) ·