Times of Pakistan

نیتن یاہو کی ’کافی‘ والی ویڈیو پر ہنگامہ: صارفین نے اے آئی ہونے کا دعویٰ کر دیا

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

شائع 16 مارچ 2026 09:34am

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی حملے میں ہلاکت کی افواہوں پر کافی شاپ کی ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے لیکن یہ نئی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پرشدید بحث کا موضوع بن گئی ہے اور سوشل میدیا صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ ویڈیو میں کافی کا کپ لبالب بھرا دکھایا گیا مگر چھلکتے ہوئے بھی کافی گری نہیں۔

یہ ویڈیو نیتن یاہو کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے جاری کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر ویڈیو کے بارے میں تبصروں اور دعووں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کو ایک کیفے میں کافی آرڈر کرتے اور مزاحیہ انداز میں اپنے بارے میں پھیلنے والی افواہوں پر ردِعمل دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں وہ عبرانی زبان میں کہتے ہیں کہ ”کافی کے لیے مر رہا ہوں“، جو عبرانی زبان میں کسی چیز کو بہت پسند کرنے کے اظہار کے طور پر استعمال ہونے والا محاورہ ہے۔

یہ ویڈیو دراصل ان افواہوں کے بعد سامنے آئی جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ مبینہ طور پر ایران کے حملے میں نیتن یاہو ہلاک ہو گئے ہیں۔ ویڈیو میں وہ نہ صرف اس دعوے کی تردید کرتے ہیں بلکہ کیمرے کے سامنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنی انگلیاں بھی دکھاتے ہیں، کیونکہ اس سے پہلے ان کی ایک پریس کانفرنس کی ویڈیو میں مبینہ طور پر چھ انگلیاں نظر آنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس پر سوشل میڈیا صارفین نے اسے اے آئی ڈیپ فیک قرار دیا تھا۔

تاہم نئی ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ایک اور بحث شروع ہو گئی ہے۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کو سست رفتار (سلو موشن) میں دیکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ جب نیتن یاہو کافی کا کپ اٹھا کر گھونٹ لیتے ہیں تو کپ میں موجود کافی کی سطح میں کوئی واضح کمی نظر نہیں آتی۔

کچھ صارفین کے مطابق کپ میں موجود جھاگ اور کافی تقریباً اسی سطح پر رہتی ہے، جس کی بنیاد پر وہ اسے ’کیمرے کے لیے جعلی گھونٹ‘ قرار دے رہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ فریم بائی فریم ویڈیو دیکھنے پر نہ تو کافی کی سطح کم ہوتی نظر آتی ہے اور نہ ہی پینے کا واضح عمل دکھائی دیتا ہے، جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ویڈیو میں دکھایا گیا گھونٹ حقیقی نہیں تھا۔

دوسری جانب کئی صارفین نے ان دعوؤں کو محض سوشل میڈیا قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو کے معیار، زاویے اور روشنی کی وجہ سے ایسا محسوس ہو سکتا ہے، اس لیے اسے فوری طور پر جعلی قرار دینا درست نہیں۔

یہ ساری بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، اور سوشل میڈیا پر سیاسی شخصیات کی ویڈیوز کو لے کر اے آئی ڈیپ فیک اور غلط معلومات کے خدشات پر بھی بحث جاری ہے۔

یوں انگلیوں کی ساخت والی ویڈیو کے بعد اب ’کافی والی ویڈیو‘ بھی سوشل میڈیا پر نئی قیاس آرائیوں اور تبصروں کا مرکز بن گئی ہے، تاہم اس بارے میں کسی مستند ادارے کی جانب سے ویڈیو کے جعلی ہونے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

Read Entire Article