Times of Pakistan

میٹ گالا میں جیف بیزوس کی شکل والی 'پیشاب کی بوتلیں' کیوں رکھی گئیں؟

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

فیشن کی دنیا کے سب سے بڑے ایونٹس میں شمار ہونے والا میٹ گالا 2026 اس وقت ایک عجیب و غریب احتجاج کا مرکز بن گیا جب وہاں موجود مہمانوں اور انتظامیہ کو جگہ جگہ لگ بھگ تین سو ایسی بوتلیں ملیں جن میں نقلی پیشاب بھرا ہوا تھا۔

یہ انوکھا احتجاج ایمازون کے مالک جیف بیزوس کے خلاف کیا گیا تھا جو اس تقریب کا ایک اہم حصہ تھے۔

سماجی کارکنوں کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد ان الزامات کی طرف دنیا کی توجہ دلانا تھا کہ ایمازون کے گوداموں میں کام کرنے والے ملازمین پر کام کا بوجھ اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ انہیں واش روم جانے تک کی فرصت نہیں ملتی اور وہ مجبوری میں بوتلوں کا استعمال کرتے ہیں۔

جب نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں فلمی ستاروں اور مشہور شخصیات ریڈ کارپٹ پر ستارے اپنی دلکش پوشاکوں کے ساتھ جلوہ گر ہو رہے تھے وہیں اندر خاموش مگر معنی خیز احتجاج پہلے ہی جاری تھا۔

اس احتجاج کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ ایک طرف جہاں جیف بیزوس جیسی امیر ترین شخصیات فیشن اور عیش و عشرت پر کروڑوں روپے لٹا رہی ہیں، وہیں ان کے ملازمین مشکل حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں کے مطابق ایونٹ کے عملے نے تقریب شروع ہونے سے پہلے ہی ان چھوٹی بوتلوں کو دریافت کر لیا تھا۔

احتجاج کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ ”یہ بوتلیں ایک علامت ہیں، جو ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ بڑی کمپنیوں کی چمک دمک کے پیچھے کام کرنے والے افراد کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“

ان کا کہنا تھا کہ میٹ گالا جیسے امیرانہ اور مخصوص ایونٹ میں اس طرح کا احتجاج اس تضاد کو نمایاں کرتا ہے جو طاقتور کارپوریٹ دنیا اور عام کارکنوں کی زندگی کے درمیان موجود ہے۔

اس احتجاج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایلف نظر نامی ایک صارف نے لکھا کہ میٹ گالا کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے جیف بیزوس کو نشانہ بنانے کے لیے میوزیم کے اندر سینکڑوں نقلی بوتلیں چھپائی تھیں۔

اس احتجاج نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں کچھ لوگ اسے ایک جرات مندانہ قدم قرار دے رہے ہیں تو کچھ کا کہنا ہے کہ فن اور فیشن کی تقریب میں ایسا طریقہ اپنانا درست نہیں تھا۔

تقریب کے باہر بھی مظاہرے دیکھنے میں آئے، جس سے دباؤ مزید بڑھ گیا۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا، ”یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس نے ہمیں ان مسائل پر سوچنے پر مجبور کیا جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔“

جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا، ”یہ احتجاج اپنی جگہ، مگر اس کا طریقہ درست نہیں تھا، کیونکہ میٹ گالا آرٹ اور فیشن کا جشن ہے۔“

اگرچہ اس واقعے کے باوجود تقریب اپنے وقت پر جاری رہی، لیکن ان بوتلوں نے ریڈ کارپٹ کی چمک دمک کے پیچھے چھپے مزدوری کے مسائل اور طاقتور طبقے کے رویوں پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اس احتجاج نے ثابت کر دیا کہ جب سماجی ناانصافی کی بات ہو تو دنیا کے محفوظ ترین اور مہنگے ترین پروگرام بھی احتجاج سے بچ نہیں سکتے۔

Read Entire Article