Times of Pakistan

مچھر کے کاٹنے پر کُھجانے کا مزہ کتنا بھاری پڑ سکتا ہے؟

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

ہم سب بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ جب کوئی مچھر یا کیڑا کاٹ لے تو وہاں کھجانا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے زخم خراب ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب کھجانے سے اتنی راحت ملتی ہے تو یہ بری بات کیسے ہو سکتی ہے؟ اب سائنسدانوں نے اس بات کا پتا لگا لیا ہے کہ اگر آپ ایک معمولی سی کھجلی کے سامنے ہار مان لیتے ہیں تو آپ کس طرح خود کو مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کیڑے کے کاٹنے یا الرجی کی وجہ سے ہونے والی خارش وقتی طور پر سکون دیتی ہے، لیکن یہی عمل بعد میں سوجن اور خارش کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر ڈینیئل کپلان کا کہنا ہے ان کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جب انسان یا جانور خارش کو مسلسل کھجاتے ہیں تو جسم میں سوزش پیدا کرنے والے خلیے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جس سے مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔

ان کے مطابق، ’اگر آپ مچھر کے کاٹنے کو نہ چھیڑیں تو چند منٹ میں خارش ختم ہو جاتی ہے، لیکن اگر آپ اسے کھجانا شروع کر دیں تو یہ ایک ہفتے تک آپ کے ساتھ رہ سکتی ہے۔‘ جس کا مطلب ہے کہ وہ جگہ اور زیادہ سرخ ہو جاتی ہے اور اس میں شدید کھجلی ہونے لگتی ہے۔

تحقیق کے دوران ڈینیئل کیپلان اور ان کی ٹیم نے چوہوں پر ایک تجربہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کھجانے سے جسم کے اندر کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

انہوں نے چوہوں کے کانوں پر الرجی پیدا کرنے والی چیز لگائی جس سے انہیں کھجلی ہونے لگی۔ کچھ چوہوں کے گلوں میں خاص قسم کے پٹے باندھ دیے گئے تاکہ وہ کھجا نہ سکیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جن چوہوں نے نہیں کھجایا، ان کے کانوں پر سوجن اور درد بہت کم تھا۔

تحقیق کے مطابق، ہمارے جسم میں ایسے خلیے ہوتے ہیں جو کسی بھی الرجی یا درد کے وقت سب سے پہلے حرکت میں آتے ہیں۔ ان خلیوں کو ’ماسٹ سیلز‘ کہا جاتا ہے۔ جب ہم کسی جگہ کو تب تک کھجاتے ہیں جب تک وہاں درد نہ شروع ہو جائے، تو ہمارے جسم کی نسیں ایک خاص کیمیکل چھوڑتی ہیں۔

یہ کیمیکل الرجی والے خلیوں کو اور زیادہ بھڑکا دیتا ہے، جس سے سوجن اور کھجلی کا ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔

ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ پرانے زمانے میں کھجانے کا فائدہ شاید یہ ہوتا تھا کہ جسم پر موجود چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے جھڑ جاتے تھے۔

چوہوں پر کیے گئے تجربے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھجانے سے ایک خاص قسم کے جراثیم سے لڑنے میں مدد ملی۔ لیکن اس چھوٹے سے فائدے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کھجانا شروع کر دیں۔

ڈاکٹر کیپلان نے اس بات پر زور دیا کہ، ’آخر کار، کھجانا نقصان دہ ہی ہے، آپ کو کھجانے سے بچنا چاہیے۔‘ حالانکہ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ایسا کرنا کہنے میں آسان ہے اور کرنے میں مشکل۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں مچھر یا کیڑوں کے کاٹنے سے ہونے والی کھجلی کا علاج بہت آسان ہے۔ اس کے لیے بازار میں ملنے والی عام اینٹی اِچ کریمیں، کیلامائن لوشن یا ٹھنڈک پہنچانے والی چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر کیپلان نے ایک دیسی اور آسان طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ پودینے یا مینتھول والی کریمیں جلد کو یہ دھوکا دیتی ہیں کہ وہاں ٹھنڈک ہو گئی ہے، جس سے کھجلی کا احساس کچھ دیر کے لیے رک جاتا ہے اور انسان کھجانے کے اس عذاب والے چکر سے بچ جاتا ہے۔

Read Entire Article