ARTICLE AD BOX
جدید طبی تحقیقات کے مطابق، بھاری کھانوں کے فوراً بعد معدے میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کا اخراج تیزی سے غیر متوازن ہو جاتا ہے۔
عیدالاضحیٰ محض ایک مذہبی اور ثقافتی تہوار ہی نہیں، بلکہ یہ ذائقوں کی ایک ایسی دنیا ہے جہاں قربانی، خوشیاں اور لذیذ پکوان یکجا ہو جاتے ہیں۔ ان دنوں ہر گھر کا دسترخوان تکے، کباب، قورمہ، نہاری بریانی اور بار بی کیو جیسی لذیذ غذاؤں سے سجتا ہے، جن کی اشتہا انگیز خوشبو اور لذیذ ذائقہ ہر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
دعوتوں اور کھانو ں کا یہ لا متناہی سلسلہ اورمہمانوں کی آمد اکثر ہمارے اندر موجود کھانے کی حسِ اعتدال کو مغلوب کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ہم ضرورت سے زیادہ گوشت نوش فرما لیتے ہیں اور لمحوں کی یہ لذت اکثر معدے کی خرابی، تیزابیت، گیس اور طبیعت کے بوجھل پن میں بدل جاتی ہے۔
گوشت بنیادی طور پر پروٹین اور فیٹس کا ایک زبردست حیاتیاتی مرکب ہے، لیکن اس کا مسلسل اور حد سے زیادہ استعمال انسانی معدے پر گراں گزرتا ہے۔ خاص طور پر جب یہ تہوار شدید گرمی کے موسم میں آئے، جہاں انسانی جسم پہلے ہی پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن اور تھکن کا شکار ہوتا ہے، تو یہ مصالحے دار غذائیں ہاضمے کے نظام میں تیزابیت، بدہضمی اور گیس کا سبب بنتی ہیں۔
جدید طبی تحقیقات کے مطابق، بھاری کھانوں کے فوراً بعد معدے میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کا اخراج تیزی سے غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ طبی جریدے ’کلینیکل گیسٹرو انٹرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی‘ میں شائع ہونے والی ریسرچ بتاتی ہے کہ اس حیاتیاتی بگاڑ کا بہترین حل ”پروبائیوٹکس“ یعنی نظامِ ہاضمہ کے دوست بیکٹیریا کا استعمال ہے۔
دبئی کے کارنر اسٹون کلینک کے معروف سرجن ڈاکٹر جیووانی لیونیٹی اس سائنسی حقیقت کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عید کے بھاری کھانوں کے بعد معدے کے اندرونی قدرتی ماحول (گٹ مائیکروبائیوم) کو دوبارہ متوازن کرنے اور پیٹ پھولنے کے احساس کو روکنے کے لیے دہی اور لسی سے بہتر کوئی قدرتی علاج موجود نہیں ہے۔
قدرت نے گوشت کی اس بھاری چربی کو متوازن کرنے کے لیے سبزیوں اور جڑی بوٹیوں میں بہترین کیمیاوی عناصر رکھے ہیں۔ کھیرا، ٹماٹر، پودینہ اور پیاز پر مشتمل سلاد نہ صرف جسم کے درجہ حرارت کو اعتدال پر لاتا ہے بلکہ ہاضمے کے اینزائمز کو بھی متحرک کرتا ہے۔
پودینے اور سونف کا قہوہ: یہ معدے میں گیس اور اپھارے کے خلاف ایک بہترین اینٹی آکسیڈنٹ کا کام کرتا ہے۔
ادرک اور لیموں کی چائے: یہ گوشت کی بھاری چکنائی کو سالماتی سطح پر توڑنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
گرین ٹی: یہ جسمانی میٹابولزم کی رفتار کو تیز کر کے معدے کو ہلکا اور چست رکھتی ہے۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق لیموں پانی معدے کی تیزابیت کو متوازن رکھنے، منہ کا ذائقہ بہتر کرنے اور کھانے کے بعد ہونے والی متلی یا بھاری پن کے احساس کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس میں تھوڑا سا پودینہ یا زیرہ شامل کر لیا جائے تو یہ ہاضمے کے لیے مزید مفید مشروب بن جاتا ہے۔
شدید گرمی میں جسم کو پانی کی کمی سے بچانا ایک اہم ترجیح ہونی چاہیے، مگر اس کے لیے مصنوعی کاربونیٹیڈ ڈرنکس کا سہارا لینا معدے پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے برعکس، زیرے اور پودینے کا پانی تیزابیت کو فوری طور پر بے اثر کرتا ہے۔
لیموں پانی جسم کو تازگی دیتا ہے، جبکہ املی اور آلو بخارے کا روایتی شربت جگر کی گرمی کو زائل کرنے کا بہترین سائنسی نسخہ ہے۔
طبی نقطہِ نظر سے عید کے دوران چند عادات کو بدلنا بھی ناگزیر ہے۔ مثلاً کھانے کے فوراً بعد شدید ٹھنڈا پانی پینے سے ہاضمے کا عمل منجمد ہو جاتا ہے، لہٰذا اس سے پرہیز کریں۔
دو بھاری کھانوں کے درمیان کم از کم 5 سے 6 گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہیے تاکہ معدہ اپنا کام سکون سے مکمل کر سکے۔ اس کے علاوہ رات کے کھانے کے بعد 15 سے 20 منٹ کی ہلکی واک معدے کی حرکات کو متحرک رکھتی ہے اور تیزابیت نہیں ہونے دیتی۔
یاد رکھیں عیدالاضحیٰ کی حقیقی خوشی تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنی صحت کے ساتھ انصاف کریں۔ اگر ہم گوشت کے چٹخاروں کے ساتھ پانی، دہی، سلاد، لیموں اور واک کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، تو شدید گرمی میں بھی ہمارا حیاتیاتی نظام متوازن رہے گا اور عید کا یہ تہوار صحت، توانائی اور حقیقی مسرت کے ساتھ گزرے گا۔
.png)
6 hours ago
7






English (US) ·