ARTICLE AD BOX
ایران کی عدلیہ نے انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ کرنے والے سرکاری ادارے کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں، جس کے بعد ملک میں ڈیجیٹل آزادی اور حکومتی کنٹرول پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ ’میزان آن لائن‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک کے سائبر اسپیس کو منظم کرنے والے خصوصی ہیڈ کوارٹر کی سرگرمیاں مختلف شکایات موصول ہونے کے بعد معطل کی گئی ہیں۔
یہ ادارہ پیر کے روز ایران میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کے فیصلے پر پہنچا تھا۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام کو دوبارہ انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنا تھا، جب کہ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس فیصلے کی منظوری دے دی تھی۔
ایران میں انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں ابتدا میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران عائد کی گئی تھیں، جب کہ بعد ازاں 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے پر رسائی مزید محدود کر دی گئی۔
حالیہ ہفتوں میں ایران نے ’پرو انٹرنیٹ‘ کے نام سے نیا درجہ بندی نظام بھی متعارف کرایا، جس کے تحت مخصوص شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اضافی فیس کے عوض بہتر اور وسیع انٹرنیٹ رسائی دی جا رہی تھی۔
ماہرین کے مطابق عدالتی فیصلے سے ایران میں انٹرنیٹ آزادی، حکومتی نگرانی اور عوامی رسائی سے متعلق بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
حالیہ دنوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جب کہ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے جنوبی ایران میں میزائل لانچنگ مقامات اور بارودی سرنگیں بچھانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ واشنگٹن نے ان کارروائیوں کو دفاعی اقدامات قرار دیا۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم فوری معاہدے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق قطر میں جاری سفارتی رابطے ابھی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تقریباً 87 روز بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم بھی دیا، جو جنگ کے دوران سیکیورٹی خدشات اور سائبر حملوں کے خطرے کے باعث محدود کر دی گئی تھی۔
.png)
3 hours ago
1





English (US) ·