ARTICLE AD BOX
عوامی سطح پر آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان
سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف بغاوت کو ایک ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے اور اکسانے والوں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں۔ اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری رہنما نے آزاد کشمیر میں حالیہ سماجی و سیاسی بے چینی کا تفصیلی احاطہ کیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ کس طرح بنیادی معاشی مطالبات پر مبنی ایک عوامی تحریک کو قومی سالمیت کو نشانہ بنانے والے ایک خطرناک تصادم میں تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں میں نے ممکنہ تصادم کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ عوامی سطح پر آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، لیکن کچھ عناصر کی جانب سے اختیار کی گئی حکمت عملی کا مقصد واضح طور پر ریاست کے ساتھ تصادم کی راہ ہموار کرنا تھا۔" مسلم کانفرنس کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر دونوں نے انتہائی لچک اور خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر معمولی اور فراخدلانہ مراعات دیں۔ ان حکومتی اقدامات میں عوامی مطالبات کی اکثریت کو تسلیم کرنا اور 170 FIRs سمیت متعدد عدالتی مقدمات کو معطل کرنا شامل تھا۔ سردار عتیق نے گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ یہ تحریک صرف معاشی ریلیف تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے عبوری آئین ایکٹ 1974 اور مہاجرین کے حقِ رائے دہی جیسے پیچیدہ آئینی تنازعات کی طرف موڑ دیا گیا۔ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بیک ڈور (خفیہ) اور ٹریک ٹو مذاکرات کی تجاویز کے باوجود، تشدد پسند عناصر نے اس تحریک کو یرغمال بنا لیا۔ اپنے خاندان کی 94 سالہ طویل سیاسی جدوجہد اور ہمیشہ پرامن سیاست کے اصولوں پر قائم رہنے کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے حالیہ دنوں میں ہونے والی 17 ہلاکتوں اور راولاکوٹ سمیت دیگر علاقوں میں پرتشدد واقعات پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو دنیا کی بہترین دفاعی افواج میں سے ایک قرار دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر نے واضح کیا کہ کشمیریوں اور پاک فوج کا رشتہ قیامِ پاکستان سے بھی پہلے کا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی فوجی بریگیڈ "قیوم بریگیڈ" کی تاریخی مثال دی، جسے کشمیری قیادت نے ہی قائم کیا تھا۔ سردار عتیق نے کہا کہ "پاک فوج کی بنیاد اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر استوار ہے، یہی وجہ ہے کہ دشمن قوتیں ہمیشہ اسے نقصان پہنچانے میں ناکام رہی ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ عسکری قیادت نے ہمیشہ کشمیریوں پر بھرپور اعتماد کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ کشمیری جنرلز انتہائی حساس اور کلیدی پوزیشنز بشمول کور کمانڈر راولپنڈی اور کور کمانڈر گوجرانوالہ کے عہدوں پر تعینات رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی پاک فوج کا وقار انتہائی بلند ہے، جہاں اسے حرمین شریفین کے تحفظ کی مقدس ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ دنیا بھر میں تیسری جنگِ عظیم کے خطرے کو ٹالنے کے لیے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے کردار کو سراہا گیا ہے۔ سردار عتیق احمد خان نے ناقدین پر یہ بات واضح کی کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا خطہ کسی مذاکرات یا ڈیسک پر بیٹھ کر حاصل نہیں کیا گیا، بلکہ اسے کشمیریوں نے نظریہ پاکستان اور اسلام کے نام پر اپنا خون بہا کر آزاد کروایا ہے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی کو بدنام کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کی 99.99 فیصد آبادی الحاقِ پاکستان کے نظریے اور "کشمیر بنے گا پاکستان" کے اصول کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "ہمارے لیے حقِ خودارادیت کا واحد مطلب بھارت سے آزادی ہے۔" موجودہ بے چینی میں پھنسے ہوئے معصوم شہریوں کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ املاک کو نقصان پہنچانے اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والے عناصر کو اب کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آل پارٹیز کانفرنس (APC) کے مشترکہ مینڈیٹ اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے حکومتِ آزاد کشمیر نے ریاست کی رٹ اور اتھارٹی کو ہر صورت بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تخریب کار عناصر کی جانب سے آزاد کشمیر کے آئین سے پاکستان کے ساتھ وفاداری کا حلف ختم کرنے جیسے مطالبات کو قومی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے، سردار عتیق نے مطالبہ کیا کہ قانون فوری طور پر حرکت میں آئے، معصوم اور گنہگار میں فرق کرے اور مجرموں کو کڑی سزائیں دے کر ایسی تخریبی سرگرمیوں کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے۔
.png)
7 hours ago
2




English (US) ·