ARTICLE AD BOX
ضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، آئی ایس پی آر
شائع 30 اپريل 2026 11:08pm
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند اور شمالی وزیرستان میں 2 الگ الگ مقامات میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی 2 کوششیں ناکام بناتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ 13 خوارجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے 28 اور 29 اپریل کو خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی 2 کوششیں ناکام بنادی گئیں اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الخوارج کے 13 دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔ دراندازی کی کوششیں مہمد اور شمالی وزیرستان میں پاک افغان بارڈر پر کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مہمند میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش کرنے والے خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت سیکیورٹی فورسز نے بروقت روکی، سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے اس گروہ کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، بروقت کی گئی کارروائی میں بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کے 8 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
ایک اور کارروائی میں شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے ساتھ خوارج کی دراندازی کی ایک اور کوشش ناکام بنا دی گئی، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایک بار پھر پاکستان کے اس مؤقف کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغان طالبان حکومت اپنی جانب مؤثر بارڈر مینجمنٹ یقینی بنانے میں مکمل ناکام رہی ہے، پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور افغان سرزمین کو خوارج کے استعمال سے روکے اور افغان شہریوں کے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا راستہ بند کیا جائے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز قومی سرحدوں کے دفاع کے عزم پر ثابت قدم اور غیر متزلزل ہیں، علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے بھارتی سرپرستی میں خارجی کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں، وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وژن عزمِ استحکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے چلنے والی دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے افغان طالبان کی جانب سے باجوڑ کی سول آبادی پر فائرنگ میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے ناموں کی فہرست جاری کر دی ہے۔
فہرست کے مطابق افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر فائرنگ سے 9 افراد شہید ہوئے، جن میں 3 عورتیں اور 6 معصوم بچے شامل ہیں۔
مارچ اور اپریل 2026 کے دوران افغانستان کی جانب سے باجوڑ کے مختلف سرحدی علاقوں، بالخصوص ماموند اور سلارزئی میں مارٹر گولے فائر کیے گئے۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مکمل ناموں کے ساتھ فہرست کا جاری کرنا، باجوڑ میں افغان طالبان کے فائر سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے بارے میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ ہر واقعے کے بعد ان عورتوں اور بچوں کی مقامی افراد کی جانب سے جاری کر دی تصاویر پہلے ہی موجود ہیں۔
پاکستان کی بہادر فوج نے اس فائرنگ کے جواب میں پیشہ ورانہ مہارت سے صرف اور صرف افغان طالبان کی فوجی پوسٹوں اور گن پوزیشن کو نشانہ بنایا اور افغانستان کی سول آبادی کو کوئی نقصان پہنچنے نہیں دیا۔ افغان طالبان کی جانب سے عورتوں اور بچوں کو بار بار نشانہ بنانا ان کی بربریت کی نشان دہی کرتا ہے۔
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان کی بربریت کا مسلسل جواب دیا گیا، جس نے نہ صرف افغان طالبان کی لیڈرشپ کو حواس باختہ کر دیا بلکہ ان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔
باجوڑ کی مقامی آبادی نے افغان فورسز کی اس بلااشتعال گولہ باری پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خیبر، کرم اور وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں اس نوعیت کے واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔
.png)
1 hour ago
1





English (US) ·