Times of Pakistan

سپریم کورٹ نے چھوٹو گینگ کے سرغنہ سمیت 3 مجرمان کو 6، 6 بار سزائے موت سنا دی

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ذاتی دشمنی اور چھوٹو گینگ کے سنگین مقدمات کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدنامِ زمانہ چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت تین مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج کر دی ہیں اور انہیں سنائی گئی چھ چھ بار سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

جسٹس ہاشم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ذاتی دشمنی اور چھوٹو گینگ کے سنگین مقدمات کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس میں کہا کہ یہ گینگ اپنے علاقے کا کنگ بنا ہوا تھا اور اس کی دہشت کی وجہ سے پولیس اسٹیشن تک بند کر دیے گئے تھے۔

کیس کی کارروائی کے دوران ملزمان کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ایف آئی آر میں ملزمان کے اصل ناموں کے ساتھ ان کے عرف بھی لکھے گئے اور سوال کیا کہ پولیس کو کیسے علم ہوا کہ ملزمان کے عرف کیا ہیں۔

اس پر پنجاب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پہلے ہی پولیس کے پاس موجود تھا۔

جسٹس صلاح الدین پہنور نے اس موقع پر یاد دہانی کرائی کہ اس گینگ نے 24 پولیس اہلکاروں کو اغوا بھی کیا تھا۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب مقابلے کے دوران پولیس اہلکاروں کی گولیاں ختم ہو گئیں تو انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔

ملزمان کے وکیل نے دفاع میں یہ موقف اختیار کیا کہ پولیس اہلکار خود کشتی میں بیٹھ کر واپس آئے تھے اور کسی اہلکار کو ایک خراش تک نہیں آئی تھی۔

اس پر جسٹس صلاح الدین پہنور نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اغوا ہونے والے پولیس اہلکار وہاں کسی فیسٹیول میں گھومنے کے لیے گئے تھے؟

تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے غلام رسول عرف چھوٹو اور دیگر مجرمان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی چھ چھ بار سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔

Read Entire Article