Times of Pakistan

زیادہ بیٹھنے کا کام ہے؟ صرف 3 منٹ میں اپنے جسم کو ری سیٹ کرکے سکون دینے کا طریقہ

9 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

'ایکسرسائز اسنیکس' کیا ہے؟ تین منٹ کا یہ سادہ ’موبیلیٹی ری سیٹ‘ روزمرہ زندگی میں کیا تبدیلی لاسکتا ہے؟

جدید طرزِ زندگی میں زیادہ تر لوگ اپنا دن کرسی پر بیٹھ کر گزارتے ہیں، چاہے وہ دفتر میں کام کر رہے ہوں، گاڑی چلا رہے ہوں یا گھر میں صوفے پر آرام کر رہے ہوں۔ ماہرین کے مطابق مسلسل بیٹھے رہنے سے جسم میں کئی تبدیلیاں آتی ہیں۔ کولہے سخت ہونے لگتے ہیں، کندھے آگے کی طرف جھک جاتے ہیں، سانس لینے کا انداز متاثر ہوتا ہے اور جسم مسلسل تناؤ کی کیفیت میں رہ سکتا ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان مسائل سے بچنے کے لیے لمبی ورزش یا گھنٹوں اسٹریچنگ ضروری ہے، لیکن ایم ڈی پی آئی کے جریدے ’ہیلتھ کیئر‘ میں شائع ہونے والی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہر 30 منٹ بعد صرف چند منٹ کی ہلکی جسمانی سرگرمی بھی مثبت نتائج دے سکتی ہے۔ ماہرین اس عمل کو ”ایکسرسائز اسنیکس“ یا مختصر ورزش کے وقفے قرار دیتے ہیں۔ ان مختصر وقفوں سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، دل کی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے اور توجہ و یادداشت میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔

تین منٹ کا موبیلیٹی ری سیٹ کیا ہے؟

ماہرین نے ایک آسان ”تین منٹ موبیلیٹی ری سیٹ“ تجویز کیا ہے جسے دن بھر بار بار دہرایا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد جسم میں پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کرنا، جوڑوں کی حرکت بہتر بنانا اور پٹھوں کو متحرک رکھنا ہے۔ اس پروگرام میں چار مختصر مراحل شامل ہیں اور ہر مرحلہ تقریباً 45 سیکنڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر 30 منٹ بعد اس ری سیٹ کو اپنانا بیٹھے رہنے کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی نئی ورزش یا جسمانی سرگرمی شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

پہلا مرحلہ: سانس کی مشق

اس تین منٹ کے عمل کا آغاز سانس کی مشق سے ہوتا ہے جو تقریباً پینتالیس سیکنڈ پر محیط ہے۔ جس طرح ہم سانس لیتے ہیں، اس کا سیدھا اثر ہمارے جسم کی حرکت اور اعصابی نظام پر پڑتا ہے۔ آہستہ اور قابو میں رکھی گئی سانس اعصابی نظام کو پرسکون ہونے کا سگنل دیتی ہے، جس سے پٹھے نرم ہو جاتے ہیں۔

اس مشق کے لیے سیدھے کھڑے ہو جائیں اور اپنے دونوں ہاتھ پسلیوں کے نچلے حصے پر رکھیں تاکہ آپ ان کی حرکت کو محسوس کر سکیں۔ اب پانچ سیکنڈ تک سانس اندر کھینچیں، سات سیکنڈ تک باہر نکالیں اور پھر تین سیکنڈ کے لیے رک جائیں۔ یہ عمل تین بار دہرائیں۔ سانس باہر نکالتے وقت پسلیوں کو اندر اور نیچے کی طرف جاتا ہوا محسوس کریں اور اپنے کندھوں کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیں۔

دوسرا مرحلہ: جوڑوں کی حرکت

گھنٹوں بیٹھنے سے جوڑوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور ان میں موجود قدرتی چکنائی کی گردش کم ہو جاتی ہے۔ کسی ایک پوزیشن میں کھنچاؤ برقرار رکھنے کے بجائے جوڑوں کو دائرے میں گھمانے سے خون کی گردش بحال ہوتی ہے۔ اس مرحلے کے لیے تین میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔

پہلے طریقے میں گردن کو آہستہ آہستہ دونوں طرف گھمائیں اور پھر کندھوں کو دائرے کی شکل میں پانچ بار آگے اور پانچ بار پیچھے حرکت دیں۔

دوسرے طریقے میں گھٹنوں کو ہلکا سا موڑ کر ہاتھوں کو رانوں پر رکھیں اور کمر کو باری باری اوپر نیچے کی طرف موڑیں، یہ عمل آٹھ سے دس بار کریں۔

تیسرے طریقے میں کولہوں اور ٹخنوں کو باری باری دونوں سمتوں میں پانچ پانچ بار گھمائیں۔ اس پورے عمل پر تقریباً پینتالیس سیکنڈ لگتے ہیں۔

تیسرا مرحلہ: پٹھوں کو متحرک کرنا

یہ مرحلہ ان پٹھوں کو دوبارہ جگانے کے لیے ہے جو بیٹھنے کی وجہ سے سست ہو جاتے ہیں۔ پٹھوں کی یہ ہلکی سی فعالیت یادداشت اور ذہنی توجہ کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس کے لیے بھی تین آپشنز موجود ہیں جن میں سے ایک چنا جا سکتا ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ کرسی کے سامنے کھڑے ہو کر بیٹھنے کی پوزیشن میں آئیں، کرسی کی نشست کو ہلکا سا چھوئیں اور دوبارہ سیدھے کھڑے ہو جائیں، یہ عمل آٹھ سے دس بار کریں۔

دوسرے طریقے میں کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں کو کندھوں کی اونچائی تک آگے پھیلائیں اور پھر کہنیوں کو پیچھے کی طرف کھینچیں، یہ مشق بارہ سے پندرہ بار کریں۔

تیسرے طریقے میں کسی دیوار یا کرسی کا سہارا لے کر اپنے پاؤں کی پنڈلیوں کے بل اوپر اٹھیں اور پھر آہستہ سے نیچے آئیں، یہ عمل دس سے بارہ بار کریں۔ اس مرحلے کا وقت بھی پینتالیس سیکنڈ ہے۔

چوتھا مرحلہ: مکمل جسمانی ہم آہنگی

آخری پینتالیس سیکنڈ کے مرحلے میں جسم کے مختلف حصوں کو ایک ساتھ حرکت دی جاتی ہے تاکہ پچھلے مراحل کے فوائد کو عملی حرکات میں تبدیل کیا جا سکے۔

اس کے لیے آپ ایک ہی جگہ پر کھڑے ہو کر اس طرح مارچ کر سکتے ہیں کہ جب دایاں گھٹنا اوپر جائے تو بائیں بازو آگے بڑھے، یہ عمل پینتالیس سیکنڈ تک جاری رکھیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک پاؤں کو تھوڑا پیچھے لے جا کر ہلکا سا نیچے جھکیں اور ساتھ ہی دونوں بازو آگے بڑھائیں، پھر واپس سیدھے کھڑے ہو جائیں۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ پندرہ سے بیس سیکنڈ تک باری باری ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر وقت اجازت دے تو ان سب کے بجائے چند منٹ کی ہلکی واک بھی کی جا سکتی ہے، کیونکہ تحقیق بتاتی ہے کہ بار بار چہل قدمی کرنے سے دماغ میں خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔

تسلسل کیوں ضروری ہے؟

ماہرین کے مطابق تین منٹ کی یہ مختصر سرگرمی مکمل ورزش کا متبادل نہیں بن سکتی، لیکن یہ جسم میں مسلسل جمع ہونے والے تناؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

جب یہ بار بار کی ایکٹیویٹی یا موومنٹس آپ کی طرز زندگی کا حصہ بن جاتی ہے، تو اس کا مجموعی نتیجہ ایک ایسے جسم کی صورت میں نکلتا ہے جو بہتر طریقے سے کام کرتا ہے، درد اور جکڑن سے محفوظ رہتا ہے اور ذہنی دباؤ کا مقابلہ زیادہ اچھے انداز میں کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہر آدھے گھنٹے بعد تین منٹ کا یہ سادہ ’موبیلیٹی ری سیٹ‘ اپنانا روزمرہ زندگی میں بہتر صحت اور کم تناؤ کی جانب ایک مؤثر قدم ہو سکتا ہے۔

Read Entire Article