ARTICLE AD BOX
دنیا بھر میں پسندیدہ لگژری گھڑی ساز کمپنی رولیکس نے اس سال دوسری بار اپنی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود مہنگی گھڑیاں خریدنے والے مالدار گاہکوں کی مانگ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ سونے کی ریکارڈ بلند قیمتوں اور امیر خریداروں کی مسلسل مضبوط طلب کا نتیجہ ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق کاروباری ذرائع اور مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ رولیکس نے رواں ماہ دنیا بھر میں اپنی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں اوسطاً پانچ فیصد اضافہ کیا ہے۔ یہ اضافہ برطانیہ، ہانگ کانگ اور امریکہ سمیت کمپنی کی بڑی مارکیٹوں میں لاگو ہو چکا ہے۔
اس سے پہلے رولیکس نے اسی سال جنوری میں بھی اپنی کچھ گھڑیوں کی قیمتیں بڑھائی تھیں، لیکن وہ اضافہ صرف چند ملکوں کے لیے تھا اور مخصوص طور پر سونے کی گھڑیوں کے لیے نہیں تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں عام مہنگائی کی وجہ سے مڈل کلاس یعنی متوسط طبقے کے لوگ مہنگی چیزوں پر پیسہ خرچ کرنے سے گریز کر رہے ہیں، وہیں دنیا کے امیر ترین افراد اب بھی ان بیش قیمتی گھڑیوں کو ایک بہترین سرمایہ کاری سمجھ کر دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں۔ اسی وجہ سے رولیکس اور دیگر بڑی کمپنیاں قیمتیں بڑھانے کے باوجود فروخت میں نمایاں کمی کا سامنا نہیں کر رہیں۔
رولیکس کے علاوہ اس کی حریف کمپنی کارٹیئر نے بھی پچھلے مہینے اپنی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں دس فیصد تک کا بڑا اضافہ کیا تھا۔ کارٹیئر کی مالک کمپنی ریشمونٹ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سونے کی ریکارڈ قیمتوں اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے انہیں قیمتیں بڑھانی پڑیں۔
رولیکس کی طرف سے ایک ہی سال میں دوسری بار قیمتیں بڑھانے کے اس فیصلے نے مارکیٹ کو حیران کر دیا ہے۔ امریکہ میں پرانی گھڑیوں کے تصدیق شدہ ڈیلر ایرک بونیٹا نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دوسرے اضافے کی مارکیٹ میں کسی کو امید نہیں تھی اور کوئی بھی اس کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ دوسری طرف رولیکس کمپنی نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اگر سونے کی قیمتوں پر نظر ڈالی جائے تو 2024 کے بعد سے اب تک عالمی مارکیٹ میں سونا تقریباً دوگنا مہنگا ہو چکا ہے اور اس کی قیمت بائیس سو ڈالر سے بڑھ کر بیالیس سو ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔ اسی وجہ سے رولیکس، کارٹیئر، ایل وی ایم ایچ، سواچ، بریٹلنگ اور شوپارڈ سمیت کئی معروف برانڈز کی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران اوسطاً 4 سے 6 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
لگژری اشیاء پر تحقیق کرنے والے ادارے ڈیٹا اینڈ ڈیٹا کے بانی زہیر گیدری نے اس حوالے سے بتایا کہ لگژری گھڑی ساز کمپنیاں اب ان امیر ترین گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جن کے پاس خرچ کرنے کے لیے وافر پیسہ موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کو قیمتی دھاتوں یعنی سونے اور زیادہ مہنگے ماڈلز خریدنے کی طرف راغب کر رہے ہیں۔
کچھ مخصوص ماڈلز میں قیمتوں کا اضافہ اس سے بھی زیادہ رہا ہے۔ مثال کے طور پر رولیکس کی مشہور کاسموگراف ڈیٹونا کے وائٹ گولڈ ماڈل کی قیمت امریکہ میں 59,100 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو رواں سال میں 14 فیصد اور 2024 کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ یہ وہی ماڈل ہے جسے 1970 کی دہائی میں معروف ہالی ووڈ اداکار پال نیومین بھی استعمال کرتے تھے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ سے مہنگی گھڑیوں کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وونٹوبیل کے تجزیہ کاروں کے مطابق 20 ہزار سوئس فرانک سے زیادہ مالیت والی گھڑیوں کی برآمدات وبا سے پہلے کے مقابلے میں دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہیں اور 2025 میں صنعت کی مجموعی برآمدی مالیت کا دو تہائی سے زیادہ حصہ انہی گھڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں انتہائی مہنگی گھڑیوں کا شوق بڑھتا جا رہا ہے۔
لگژری گھڑیوں کے آن لائن پلیٹ فارم کرونو ہنٹر کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ سائمن لازارس نے پیش گوئی کی ہے کہ رولیکس گھڑیوں کی مانگ ہمیشہ ان کی سپلائی سے زیادہ رہے گی۔ انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سب اس برانڈ کی مقبولیت اور اس کی طلب کی وجہ سے ہے، کیونکہ رولیکس ہمیشہ سے سب سے بلندی پر اڑنے والا برانڈ رہا ہے اور لوگ ہر حال میں اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سونے کی قیمتیں بلند رہیں اور امیر خریداروں کی دلچسپی برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں لگژری گھڑیوں کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔
.png)
1 hour ago
2






English (US) ·