ARTICLE AD BOX
دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں پہلے ہی سر فہرست سمجھے جانے والے ایلون مسک نے کاروباری دنیا میں ایک ایسا ناقابل یقین سنگ میل عبور کر لیا ہے جس کی معاشی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔
امریکی شہر نیویارک کے ناسڈیک اسٹاک ایکسچینج میں ان کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے شیئرز پہلی بار عام عوام کے لیے فروخت کے لیے پیش کیے گئے۔ اس تاریخی آغاز کے ساتھ ہی ایلون مسک دنیا کے پہلے باضابطہ کھرب پتی بن گئے ہیں اور ان کی مجموعی دولت ایک ہزار ارب ڈالر کے ہندسے کو پار کر گئی ہے۔
اس حیرت انگیز کامیابی کی تصدیق فوربز اور رائٹرز جیسے معتبر عالمی مالیاتی اداروں نے بھی کر دی ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے اس رقم کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک ارب ڈالر سو کروڑ ڈالر کے برابر ہوتا ہے اور ایلون مسک اب ایسے ایک ہزار ارب ڈالرز کے اکیلے مالک بن چکے ہیں۔
اسپیس ایکس کی اس عوامی پیشکش کے پہلے ہی دن مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کی زبردست دلچسپی کے باعث کمپنی کے ایک شیئر کی قیمت ایک سو پینتیس ڈالر سے چھلانگ لگا کر ایک سو پچاس ڈالر تک پہنچ گئی۔
اس اضافے کے بعد مریخ پر انسانی بستی بسانے کا خواب دیکھنے والی اس کمپنی کی کل مالیت ایک ہزار سات سو ستر ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے، جس میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی سروس اسٹار لنک اور مصنوعی ذہانت کا ادارہ ایکس اے آئی بھی شامل ہیں۔
ایلون مسک نے اس کامیابی پر اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ، ’اسپیس ایکس کا سفر ایک انتہائی عاجزانہ اور معمولی آغاز سے شروع ہوا تھا۔ ہمارا مقصد صرف ایک کمپنی بنانا نہیں بلکہ انسانیت کو مریخ تک پہنچانے کے خواب کو حقیقت میں بدلنا تھا۔‘
ایلون مسک کی دولت میں اضافے کی رفتار اتنی تیز ہے کہ انہوں نے دنیا کے تمام امیروں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ محض چار ماہ کے مختصر عرصے میں پانچ سو ارب ڈالر سے ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ ان کے مقابلے میں ایمیزون کے مالک جیف بیزوس کو پچاس ارب سے دو سو ارب ڈالر تک پہنچنے میں بیس سال کا طویل عرصہ لگا تھا۔
ماہرین کے مطابق مسک کی دولت میں یہ اضافہ صرف اسپیس ایکس کی کامیابی کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی دیگر کمپنیوں کی مضبوط کارکردگی بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اسپیس ایکس کے تحت چلنے والی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک دنیا کے درجنوں ممالک میں خدمات فراہم کر رہی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرگرم کمپنی ایکس اے آئی بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ دوسری جانب ٹیسلا کے شیئرز کی بڑھتی قیمتوں نے بھی مسک کی مجموعی دولت میں نمایاں اضافہ کیا۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسانی تاریخ میں کسی فرد کی دولت اتنی تیزی سے بڑھنے کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ صرف چند ماہ قبل ایلون مسک کی دولت تقریباً پانچ سو ارب ڈالر تھی، جو اب دوگنی ہو کر ایک کھرب ڈالر کی حد عبور کر چکی ہے۔
یاد رہے کہ اسپیس ایکس میں ایلون مسک کے حصص کی شراکت داری بیالیس فیصد ہے اور ان کی کوئی باقاعدہ تنخواہ نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی کمپنیوں کے شیئرز مہنگے ہونے سے امیر ہوتے ہیں۔
ایلون مسک کی دولت کے حجم کو سمجھنے کے لیے ماہرین دلچسپ مثالیں بھی پیش کر رہے ہیں۔ ایک مالیاتی رپورٹ بنزینگا کے مطابق مسک اگر چاہیں تو امریکہ کی تمام بڑی بیس بال، باسکٹ بال، آئس ہاکی اور فٹبال ٹیمیں بیک وقت خرید سکتے ہیں اور پھر بھی ان کے پاس خطیر رقم بچ جائے گی۔
اگران کی دولت کا موازنہ دنیا کے مختلف ممالک سے کیا جائے تو وہ اکیلے دنیا کی بیسویں بڑی معیشت کے برابر کھڑے نظر آتے ہیں۔
اگر مسک کی دولت کا موازنہ دنیا کی قومی معیشتوں سے کیا جائے تو ان کے اثاثوں کی مالیت کئی ممالک کی سالانہ اقتصادی پیداوار کے برابر یا اس سے زیادہ بنتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی دولت پولینڈ اور سعودی عرب جیسی معیشتوں کے حجم کے قریب پہنچ چکی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کی معیشت، جو عالمی درجہ بندی میں تریسٹھویں نمبر پر ہے اور جس کی سالانہ پیداوار چار سو گیارہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، جبکہ ایلون مسک کی مجموعی دولت اس سے کئی گنا زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی ملک کی معیشت سے مراد اس کے سال بھر کے کام اور سامان کی پیداوار ہوتی ہے، جبکہ کسی شخص کی دولت اس کے تمام اثاثوں کی مجموعی قیمت کو کہا جاتا ہے۔
مالیاتی ویب سائٹ کیلیبس فارچون نے اس کامیابی پر لکھا ہے کہ رائٹرز کی طرف سے مسک کو دنیا کا پہلا کھرب پتی قرار دیا جانا انہیں موجودہ دور کی دنیا سے بالکل الگ اور منفرد صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔ فوربز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر کے تمام تین ہزار چار سو اٹھائیس ارب پتیوں کے پاس جتنی دولت ہے، اس کا اکیلا پانچ فیصد حصہ ایلون مسک کی جیب میں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ دولت اتنی ہی تیز رفتاری سے اوپر گئی ہے، وہاں اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی قیمتیں گرنے سے یہ اتنی ہی تیزی سے نیچے بھی آ سکتی ہے۔ مسک کی یہ کامیابی جہاں کاروباری دنیا کی معراج سمجھی جا رہی ہے، وہیں یہ دنیا بھر میں پھیلی غربت اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے اس گہرے فرق پر ایک نئی بحث کو بھی جنم دے رہی ہے۔
.png)
2 hours ago
2






English (US) ·