ARTICLE AD BOX
یہ تحقیق ستاروں کے اختتامی مراحل اور نظام شمسی کی تبدیلیوں کو سمجھنے میں اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔
شائع 07 جولائ 2026 12:04pm
ایک نئی سائنسی تحقیق نے زمین کے مستقبل کے بارے میں ایک حیران کن امکان پیش کیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ سورج کے ختم ہونے کے عمل کے دوران زمین بھی تباہ ہو جائے، بلکہ ممکن ہے کہ ہمارا سیارہ اس خطرناک مرحلے سے بچ نکلے۔
یہ تحقیق فلکیات کے معروف جریدے “ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس“ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کی قیادت بیلجیم کی ”کے یو لیوِن یونیورسٹی“ کے انسٹی ٹیوٹ آف آسٹرونومی سے تعلق رکھنے والے محقق ماتس ایسلڈئرس نے کی۔ ان کے مطابق سورج جیسے بڑے ستاروں کے مشاہدات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زمین کا مستقبل مکمل تباہی پر ختم ہونا ضروری نہیں۔
سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تقریباً 5 ارب سال بعد سورج کے مرکز میں موجود ہائیڈروجن ایندھن ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس کے بعد سورج موجودہ حجم کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ پھیل جائے گا۔ پہلے یہ سرخ دیو ستارہ بنے گا اور بعد میں اس سے بھی بڑے مرحلے یعنی اے جی بی ستارے کی شکل اختیار کرے گا۔
یہ حالت کسی بھی ستارے کی زندگی کا آخری مرحلہ ہوتا ہے، جس میں ستارہ بہت زیادہ پھیل جاتا ہے اور آخرکار سکڑ کر سفید بونا ستارہ بن جاتا ہے۔ جو ایک مردہ ستارے کا بچا ہوا گرم مرکز ہوتا ہے۔
اب تک زیادہ تر سائنس دانوں کا خیال تھا کہ سورج کے آخری مراحل میں پیدا ہونے والی شدید حرارت زمین کو مکمل طور پر تباہ کر دے گی اور سورج کے پھیلاؤ کے دوران زمین سمیت عطارد اور زہرہ جیسے سیارے بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔
تاہم نئی تحقیق میں ستاروں کے ارتقا کے ماڈلز اور ایک قریبی مرتے ہوئے ستارے ’ایل ٹو پپیس‘ کے مطالعے سے مختلف امکان سامنے آیا ہے۔ ایل ٹو پپیس ایک قریبی مرتا ہوا ستارہ ہے، جس کا مطالعہ سائنس دان سورج کے مستقبل کے ممکنہ انجام کو سمجھنے کے لیے کر رہے ہیں۔
محققین کے مطابق سورج کے ختم ہونے کے عمل میں دو بڑے عوامل زمین کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
ایک امکان یہ ہے کہ سورج کے پھیلنے کے ساتھ اس کی کشش ثقل کے اثرات زمین کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچیں گے اور بالآخر زمین سورج میں سما جائے گی۔ لیکن دوسرا امکان یہ ہے کہ سورج آخری مراحل میں اپنی بڑی مقدار میں کمیت خلا میں خارج کر دے گا۔ اس صورت میں سورج کی کشش ثقل کمزور ہو جائے گی اور زمین مزید دور مدار میں چلی جائے گی، جس سے وہ تباہی سے بچ سکتی ہے۔
محققین کے مطابق زمین کا انجام اس بات پر منحصر ہوگا کہ سورج کتنی تیزی سے اپنی کمیت کھوتا ہے۔ اگر سورج کی کشش ثقل اور زمین کے درمیان اثرات زیادہ طاقتور رہے تو زمین نگل لی جائے گی، لیکن اگر سورج کی کمیت میں کمی کا عمل غالب رہا تو زمین ایک بڑے مدار میں منتقل ہو کر بچ سکتی ہے۔
ماتس ایسلڈئرس نے کہا کہ زمین کا مستقبل ان دونوں عوامل کے درمیان ایک نازک توازن پر منحصر ہے۔ ان کے مطابق ابھی یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اربوں سال بعد زمین کا انجام کیا ہوگا، لیکن نئی تحقیق نے یہ امکان ضرور پیدا کر دیا ہے کہ ممکن ہے ہمارا سیارہ سورج کے خاتمے کے باوجود مکمل طور پر ختم نہ ہو۔
یہ تحقیق کائنات میں ستاروں اور سیاروں کے تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ مختلف نظام شمسی اپنے ستاروں کے آخری مراحل میں کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔
.png)
1 hour ago
1





English (US) ·