ARTICLE AD BOX
بھارتی وزیرِاعظم 15 سے 20 مئی تک پانچ ممالک کے دورے پر ہیں، جس میں یو اے ای کے بعد نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے دورے بھی شامل ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ خلیج کے موقع پر بھارت اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان ایک جامع اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے فریم ورک پر اتفاق کیا گیا ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی وزیراعظم کے دورۂ یو اے ای کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان توانائی، دفاع اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں متعدد اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان میں سب سے نمایاں پیش رفت بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے لیے ایک فریم ورک کا قیام ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث علاقائی سفارتی اور اسٹریٹجک توازن پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھارتی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس نئی دفاعی شراکت داری کے تحت بھارت اور یو اے ای دفاعی صنعتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ مشقوں، بحری سلامتی اور سائبر ڈیفنس کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور محفوظ مواصلاتی نظام کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی 15 سے 20 مئی تک پانچ ممالک کے دورے پر ہیں، جس میں متحدہ عرب امارات کے بعد نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے دورے بھی شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس دورے کا مقصد تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، جدت اور گرین گروتھ کے شعبوں میں بھارت کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
وزیراعظم مودی کے دورۂ یو اے ای میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (تیل کے ذخائر) اور ایل پی جی کی فراہمی کے معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔
یہ معاہدے اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ متحدہ عرب امارات نے یکم مئی سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی عالمی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کیا تھا، جس کے بعد اب وہ اوپیک کی پابندیوں سے آزاد ہو کر زیادہ مقدار میں تیل بیچ سکتا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق اقدامات پر بھی پیش رفت ہوئی ہے، جن میں آر بی ایل بینک میں 60 فیصد حصص کی خریداری اور سماعان میں ابوظہبی کے بڑے سرمایہ کاری ادارے کی ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری جیسے معاہدے شامل ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں کشیدگی نے تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری میں بھارت اور یو اے ای نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی خریداری کے لیے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا، جبکہ دفاعی شراکت داری کی جانب بڑھنے کے لیے ایک ابتدائی مفاہمتی اعلامیہ بھی طے پایا تھا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق اقدامات پر بھی پیش رفت ہوئی ہے، جن میں آر بی ایل بینک میں 60 فیصد حصص کی خریداری اور سماعان میں ابوظہبی کے بڑے سرمایہ کاری ادارے کی ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری جیسے معاہدے شامل ہیں۔
.png)
45 minutes ago
1




English (US) ·