Times of Pakistan

بڑھاپے کے اثرات: رونالڈو کی فیفا ورلڈ کپ میں خراب کارکردگی پر سوالات اُٹھ گئے

2 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے اپنے افتتاحی میچ میں پرتگال کی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر کانگو) کے خلاف مایوس کن کارکردگی کے بعد کرسٹیانو رونالڈو شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، جبکہ فٹبال ماہرین نے ان کی بڑھتی عمر اور ٹیم میں موجودہ کردار پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں کھیلے گئے میچ میں پرتگال نے ابتدا میں شاندار آغاز کیا اور جواؤ نیویس کے ابتدائی ہیڈر کی بدولت برتری حاصل کی۔ پرتگالی مڈفیلڈ، جس میں وٹینیا، برونو فرنینڈس اور برنارڈو سلوا جیسے کھلاڑی شامل تھے، نے کھیل پر مکمل کنٹرول رکھا اور حریف کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ پاسز کیے۔

تاہم پرتگال کو گول کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ 41 سالہ رونالڈو بطور اسٹرائیکر مؤثر ثابت نہ ہو سکے اور پورے میچ میں ان کے صرف 25 ٹچز ریکارڈ کیے گئے جبکہ وہ ایک بھی شاٹ ہدف پر نہ لگا سکے۔ میچ 1-1 سے برابر ختم ہوا اور ڈی آر کانگو نے ورلڈ کپ میں ایک اہم پوائنٹ حاصل کر لیا۔

اعداد و شمار بھی پرتگال کے لیے تشویشناک رہے۔ ڈی آر کانگو نے پرتگال کے مقابلے میں زیادہ شاٹس، زیادہ آن ٹارگٹ کوششیں اور بہتر ایکسپیکٹڈ گولز پیدا کیے، جس سے پرتگال کے اٹیکس کی کمزوری نمایاں ہوئیں۔

رونالڈو اس میچ میں 41 سال اور 132 دن کی عمر میں ورلڈ کپ کی تاریخ کے معمر ترین آؤٹ فیلڈ کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اگرچہ یہ ان کی طویل اور شاندار کیریئر کا ثبوت ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کے اثرات اب ان کی کارکردگی میں واضح دکھائی دے رہے ہیں۔

اپنے ابتدائی دور میں رونالڈو ایک برق رفتار ونگر کے طور پر جانے جاتے تھے جو ڈرِبلنگ اور جسمانی طاقت سے دفاعی لائنوں کو توڑ دیتے تھے، لیکن اب وہ زیادہ تر سینٹر فارورڈ کے کردار میں نظر آتے ہیں اور دفاعی یا تخلیقی کھیل میں ان کی شمولیت محدود ہو گئی ہے۔

مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ رونالڈو اپنے آخری ورلڈ کپس اور یورو کپ میچز میں کوئی گول کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جس سے ان کی بین الاقوامی سطح پر فارم پر سوالات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

حالیہ بڑے مقابلوں میں پرتگال کے گزشتہ چار میچز کے دوران رونالڈو نے ممکنہ 420 منٹ میں سے 396 منٹ میدان میں گزارے، لیکن ان میچز میں ٹیم صرف ایک گول ہی کر سکی۔

اعداد و شمار کے مطابق جب رونالڈو ابتدائی الیون کا حصہ ہوتے ہیں تو پرتگال اوسطاً 1.9 گول فی میچ کرتا ہے، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں یہ اوسط 2.8 گول تک پہنچ جاتی ہے۔

دوسری جانب پرتگال کے ہیڈ کوچ روبرٹو مارٹینز نے رونالڈو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے میچز میں، جہاں باکس کے اندر مواقع بنانا مشکل ہو، وہاں فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے گول اسکورر کو میدان سے باہر نکالنا کوئی منطقی فیصلہ نہیں ہوتا۔

تاہم ڈی آر کانگو کے خلاف میچ میں رونالڈو نہ تو خاطر خواہ مواقع تخلیق کر سکے اور نہ ہی کوئی فیصلہ کن لمحہ پیدا کر پائے۔ اس کارکردگی کے بعد یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آیا پرتگال کی ورلڈ کپ مہم میں رونالڈو کی موجودہ فارم ایک طاقت ثابت ہوگی یا ٹیم کے لیے ایک کمزور کڑی بن سکتی ہے۔

Read Entire Article