Times of Pakistan

بریانی اور تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی پراسرار موت

7 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

عبداللہ اور ان کی اہلیہ سمیت دونوں بیٹیاں تربوز کھانے کے چند گھنٹوں بعد ہی دم توڑ گئیں

بھارت کے شہر ممبئی کے بھنڈی بازار علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے شہریوں کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا، جہاں ایک ہی خاندان کے چار افراد چند گھنٹوں کے اندر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ابتدائی طور پر اس المناک سانحے کو مشتبہ فوڈ پوائزننگ سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 40 سالہ تاجر عبداللہ قادر نے ہفتے کی رات اپنے اہل خانہ اور قریبی عزیزوں کے ساتھ بریانی اور پلاؤ تناول کیا۔ دعوت کے بعد تمام رشتے دار اپنے گھروں کو واپس چلے گئے جبکہ عبداللہ اپنی اہلیہ نسرین، 16 سالہ بیٹی عائشہ اور 13 سالہ زینب کے ساتھ گھر لوٹ آئے۔

رات گئے تقریباً ایک بجے خاندان نے میٹھے کے طور پر تربوز کھایا، لیکن صبح پانچ بجے کے قریب چاروں افراد کی حالت اچانک بگڑ گئی۔ انہیں شدید قے، دست اور جسمانی کمزوری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد فوری طور پر انھیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق سب سے پہلے کم عمر زینب دم توڑ گئی، جبکہ چند گھنٹوں کے اندر والدہ نسرین اور بڑی بیٹی عائشہ بھی زندگی کی بازی ہار گئیں۔ بعدازاں خاندان کے سربراہ عبداللہ بھی چل بسے۔

ڈاکٹروں کے مطابق متاثرہ افراد شدید ڈی ہائیڈریشن اور خطرناک جسمانی کمزوری کا شکار تھے، تاہم ماہرین نے محض باسی تربوز کو اتنی تیزی سے چار اموات کی واحد وجہ قرار دینے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ طبی حلقوں کو شبہ ہے کہ ممکنہ طور پر تربوز میں کوئی زہریلا مادہ یا کیمیکل موجود ہوسکتا ہے جس نے گردوں سمیت اہم اعضا کو متاثر کیا۔

پولیس نے گھر سے برآمد ہونے والا آدھا استعمال شدہ تربوز تحویل میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا ہے، جبکہ تمام لاشوں کا پوسٹ مارٹم بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ تفتیشی ادارے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ محض خوراک میں خرابی کا معاملہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور سنگین پہلو موجود ہے۔

اس افسوسناک واقعے نے علاقے بھر کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے، خصوصاً دونوں نوجوان بہنوں کی اچانک موت نے ہر آنکھ کو نم کر دیا، جو اپنے تعلیمی نتائج کا انتظار کر رہی تھیں۔ پولیس نے حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

Read Entire Article