ARTICLE AD BOX
ٹرمپ زمینی فوج بھیجنے کے خواہاں، جرمن وزیر دفاع نے نیٹو کی شمولیت سے صاف انکار کردیا، ذرائع کا دعویٰ
شائع 16 مارچ 2026 08:29pm
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مشکل بنتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض مشیر بھی موجودہ صورتحال پر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور جنگی حکمت عملی پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کی طاقت اور اس کے ممکنہ ردعمل کو سمجھنے میں غلطی کی۔
ذرائع کے مطابق ابتدا میں ٹرمپ کو یقین تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی بغیر زمینی فوج بھیجے بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ دباؤ بڑھنے کی صورت میں ایرانی حکومت آسانی سے گر جائے گی۔
تاہم موجودہ صورتحال کے بعد ٹرمپ اب فوری طور پر زمینی فوج بھیجنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا کہ وہ اب ’بس یہ کام مکمل کرنا چاہتے ہیں‘۔
دوسری جانب جرمنی کے وزیرِ دفاع بورس پسٹاریس نے اس جنگ میں نیٹو کو شامل کرنے کے حوالے سے امریکی توقعات پر سخت ردعمل دیا ہے۔
جرمن وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ایران میں موجود مذہبی قیادت کے خاتمے کی خواہش تو بہت سے ممالک رکھتے ہیں، تاہم امریکا اور اسرائیل نے اس جنگ کا فیصلہ خود کیا ہے۔
بورس پسٹاریس نے کہا کہ دنیا یا امریکی صدر کو یہ سوچنا چاہیے کہ چند یورپی بحری جہاز اس صورتحال میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کو کھلوانا ایک مشکل کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا کی طاقتور بحریہ بھی اس معاملے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکی تو چند یورپی جہاز اس میں کیا کر سکتے ہیں۔
جرمن وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ جنگ جرمنی کی نہیں ہے اور نہ ہی جرمنی نے اسے شروع کیا ہے، اس لیے اس میں براہ راست شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے اس بیان کو مبصرین ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔
.png)
1 hour ago
2







English (US) ·