Times of Pakistan

ایران کتنا دباؤ جھیل پائے گا؟

13 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

امریکی معیشت میں اتنی گنجائش ضرور ہے کہ وہ ایک برس بھی ایران کی اقتصادی ناکہ بندی جاری رکھنا چاہے تو اس کے اثرات سے امریکی معیشت کو بظاہر فوراً کوئی بڑا ڈینٹ نہیں پڑنے والا۔ لیکن آبنائے ہرمز کی دوہری بندش اگلے تین ماہ جاری رہنے کی شکل میں عالمی معاشی گراوٹ کی دو دھاری تلوار سے خود امریکی عوام اور ٹرمپ کے ووٹر کب تک اپنا گلا محفوظ رکھ پائیں گے ؟

اس کے برعکس ایرانیوں کا معاملہ بظاہر سیدھا سیدھا ہے۔وہ گذشتہ نصف صدی سے ہر طرح کی پابندیوں کے عادی ہیں چنانچہ انھوں نے بنیادی ضروریاتِ زندگی میں خودکفالت اور درآمد و برآمد کے متبادل راستے ڈھونڈ رکھے ہیں۔اگر بین الاقوامی پابندیاں اس قدر ہمہ گیر اور طویل نہ ہوتیں تو شائد ایران کی مڈل کلاس کب کی ریاستی نظام کی ’’ آہنی گرفت ‘‘ کسی حد تک ڈھیلی کرنے میں کامیاب ہو چکی ہوتی کہ جس مڈل کلاس کی ہمدردی کا درد مغرب کے پیٹ میں تب سے اٹھ رہا ہے جب سے مغرب نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کا شکنجہ کس رکھا ہے۔

یہی مغربی دوغلا پن ہے جسے ایرانی حکمران طبقہ اپنے استحکام کے لیے مہارت سے استعمال کرتا آیا ہے۔ مغرب کی روش یونہی رہی تو قوم پرستی و عقیدے کا مرکب ایرانی ریاستی نظام بھی یونہی جاری رہے گا۔گویا ایک اعتبار سے مغرب اور ایرانی نظام کے مابین دشمنی دراصل دوطرفہ لاشعوری تعاون کی شعوری تصویر ہے۔

اس بقراطی سے قطع نظر آج کی عملی حقیقت کچھ یوں ہے کہ دونوں حریفوں میں سے جو سب سے پہلے پلک جھپکے گا وہ امریکا ہی ہو گا۔امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے تو اپنے تئیں سیدھا سیدھا فارمولا بتا دیا ہے کہ چونکہ اسی فیصد ایرانی معیشت کا دار و مدار تیل پر ہے اور نوے فیصد تیل بیرونی دنیا کو خرگ جزیرے کے آئیل ٹرمنل سے جہاز بھر بھر کے جاتا ہے لہذا اگر امریکی ناکہ بندی قائم رہی تو اگلے دو ہفتے میں خرگ جزیرے پر تیل رکھنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی اور یوں ایران کو اپنی آئل ریفائنریز اور تیل کے کنوئیں بند کرنا پڑیں گے اور چند ہی ہفتوں میں معیشت کا پہیہ آہستہ آہستہ ساکت ہوتا چلا جائے گا۔یوں ایران کا اقتصادی دم گھٹنے لگے گا تو وہ امریکا کے آگے ماتھا ٹیک دے گا۔دی اینڈ آف دی اسٹوری۔

مگر باقی دنیا ایسے کسی تصوراتی غبارے میں بند نہیں جس میں ٹرمپ سمیت ان کی کابینہ بند ہیں۔

یہ درست ہے کہ اسی فیصد ایرانی تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی باہر جاتا ہے مگر اٹھائیس فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد بھی ایران نہ صرف زیادہ تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا بلکہ پہلے کے مقابلے میں اس تیل کی قیمت بھی زیادہ وصول پائی ( نوے سے سو ڈالر فی بیرل )۔

یعنی جنگ کے بعد کے ایک ماہ میں ایران کو پانچ ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی۔جب کہ جنگ سے پہلے فروری کے پورے مہینے میں ایران کی تیل کی آمدنی ساڑھے تین ارب ڈالر تھی۔گویا جنگ سے پہلے کے ایک مہینے کے مقابلے میں دورانِ جنگ ایرانی تیل کی ماہانہ آمدنی چالیس فیصد زائد ریکارڈ کی گئی ( شائد اسی موقع کے لیے کہا جاتا ہے کہ کبڑے کو لات پڑی تو اس کا کب سیدھا ہو گیا )۔

یہی وہ محرک تھا جس نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کی بحری ناکہ بندی کا خیال سجھایا۔اس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ چونکہ اسی فیصد ایرانی تیل کا خریدار چین ہے۔چنانچہ اس ناکہ بندی سے سب سے زیادہ چین ہی متاثر ہوگا۔لہذا چین ایران پر رویے میں لچک پیدا کرنے کے لیے دباؤ بڑھائے گا۔ایرانی اقتصادیات میں چونکہ چین کا کلیدی کردار ہے چنانچہ وہ چین کو نا نہیں کر پائے گا اور یوں ایران بڑی حد تک امریکی مطالبات مان لے گا۔اس کے بعد امریکا یہ کہہ کے جیت کا اعلان کر دے گا کہ ہم نے ایران کو بیشتر مطالبات ماننے پر مجبور کر دیا۔جب کہ ایران یہ کہہ کے خود کو کامیاب قرار دے سکتا ہے کہ ہم نے بیشتر امریکی مطالبات کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے اور چین کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ کوئی بھی بڑا عالمی بحران چین کے تعاون کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔

مگر ایرانی شائد ایسے نہیں سوچ رہے۔وہ دیکھ رہے ہیں کہ جنگ اور ناکہ بندی سے جتنا نقصان ایران کا ہوا اس سے کہیں پتلی حالت امریکا کے خلیجی اتحادیوں کی ہے۔اماراتیوں اور سعودیوں کے پاس کسی حد تک متبادل تجارتی راستہ ہے مگر کویت ، بحرین اور قطر تو خلیج فارس کی جھیل میں پوری طرح بند ہیں۔کویت اور قطر نے تیل اور گیس کی پیداوار کے کنٹریکٹ پورے کرنے سے معذوری اختیار کرتے ہوئے فورس میجور کی بین الاقوامی تجارتی کلاز کے سہارے اپنی ذمے داریوں سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔

قطر حالانکہ فی کس آمدنی کے اعتبار سے امیر ترین ممالک میں شامل ہے مگر اس نے بینکاری ساکھ بچانے کے لیے تین ارب ڈالر مالیت کے ہنگامی بانڈز جاری کر دیے ہیں۔ جب کہ امارات نے ڈالر کی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کو ’’ کرنسی کے تبادلے ‘‘ کی درخواست دی ہے۔اس درخواست پر خود ٹرمپ صاحب بھی بھونچکے ہیں۔

اس تناظر میں ایرانی معیشت پر جنگ اور ناکہ بندی کے مجموعی اثرات دیکھے جائیں تو غالب کا یہ شعر ذہن میں آتا ہے۔

گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا

وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر سو ہے

جنگ اب آبنائے ہرمز سے نکل کے رفتہ رفتہ بحرِ ہند کے وسیع علاقے تک پھیل رہی ہے۔امریکی بحریہ ایرانی آئل ٹینکرز کی تلاش میں ہے جنھیں اتنے وسیع سمندر میں پکڑنا آسان نہیں۔ ایک دو ٹینکرز پکڑ کے امریکا اپنی ناکہ بندی کی کامیابی کا اعلان کر تو سکتا ہے مگر اس وقت آئل ٹینکرز میں بھرا لگ بھگ ایک سو اسی ملین بیرل ایرانی تیل خلیجِ اومان سے آبنائے ملاکا تک مختلف منازل کی جانب رواں ہے۔

جب یہ آخری رسد آخری منزل تک پہنچ جائے گی اس کے بعد قلت کی اصل گیم شروع ہو گی جس کی حدت بالاخر عام صارف تک پہنچے گی۔صارف اپنی حکومت پر دباؤ ڈالے گا اور حکومت ٹرمپ انتظامیہ سے پوچھے گی کہ ایک ملک سے گھٹنے ٹکوانے کے چکر میں پوری عالمی معیشت کے گھٹنے توڑنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ایک ماہ بعد آنے والا یہی وہ مرحلہ ہو گا جب ٹرمپ اپنا قالین مکمل لپیٹنا شروع کر دے گا اور ایران کی گردن آزاد ہو جائے گی۔یہ ہے ایرانی سوچ۔

اب امریکی سوچ غالب آتی ہے یا ایرانی سوچ؟ فی الحال ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

Read Entire Article