Times of Pakistan

ایران کا مرجانی جزیرہ ’خارگ‘؛ قبضے کے پلان کے بعد اب امریکی حملوں کی زد میں کیوں ہے؟

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

ایران کا تاریخی جزیرہ جہاں قدیم تہذیبوں، مذاہب اور تجارت کے آثار آج بھی موجود ہیں۔

شائع 14 مارچ 2026 06:37pm

امریکا نے ایران پر حملوں میں اب تہران اور دوسرے شہروں کے علاوہ ’خارگ‘ نامی جزیرے کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ اس جزیرے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے اور یہ ایرانی ’آئل اکانومی‘ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ سخت فوجی نگرانی کے باعث ایران میں اسے ’ممنوعہ جزیرہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ایران کا جزیرہ ’خارگ‘ خلیج فارس کے شمالی حصے میں واقع ایک انتہائی اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل جزیرہ ہے، جو ایران کی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے اب تک ایران کے شہروں تک حملے محدود رکھے ہوئے تھے تاہم اب اس جزیرے کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

تاہم جنگ کے پندرہویں روز یعنی 14 مارچ کی صبح یہ جزیرہ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی فضائیہ نے اس جزیرے پر واقع ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے طاقتور بمباری قرار دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال جزیرے کی تیل کی تنصیبات کو تباہ نہیں کیا گیا تاہم انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالی تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے جواب میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر خارگ میں تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو امریکا اور اسکے اتحادیوں کی ملکیت تیل اور توانائی کمپنیوں کو تباہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی میں خارگ جزیرے پر قبضہ یا فوجیں اتارنے کا آپشن بھی زیرِ غور آیا تھا۔

خارگ جزیرے کو ایران میں ’ممنوعہ جزیرہ‘ کہا جاتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی سخت سیکیورٹی کے باعث یہاں صرف خصوصی سرکاری اجازت کے حامل افراد کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے۔

جغرافیائی طور پر یہ ایران کے صوبہ بوشہر کے زیرِ انتظام ہے۔ یہ بظاہر سمندر میں زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے مگر ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔

صدیوں پر محیط تاریخ

جزیرہ خارگ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، یہاں ہزاروں سال قدیم تہذیبوں کی باقیات اور نشانات بھی موجود ہیں۔ خارگ تیل کی دریافت سے بہت پہلے بھی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا تھا اور ایک اہم بحری چوکی کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔

یہ جزیرہ جغرافیائی اور تاریخی طور پر ہمیشہ سے ایران (سلطنتِ فارس) کا حصہ رہا ہے اور 18ویں صدی کے وسط سے یہ مسلسل اور بلا شرکتِ غیرے ایران کے زیرِ انتظام ہے۔

یورپی نوآبادیاتی دور میں اس جزیرے پر سب سے پہلے پرتگالیوں نے قبضہ کیا، پھر 18ویں صدی میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں قلعہ تعمیر کیا۔ تاہم 1766 میں بندر ریگ کے گورنر میر مہنا نے ڈچ افواج کو جزیرے سے نکال دیا۔

انیسویں صدر میں برطانیہ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے دو بار اس جزیرے پر مختصر قبضہ کیا، تاہم معاہدہ پیرس کے بعد اسے مستقل طور پر ایران کے حوالے کر دیا گیا۔

ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے اس جزیرے کو سیاسی قیدیوں کی جلاوطنی کے مقام کے طور پر بھی استعمال کیا۔

1960 کی دہائی کے اوائل میں جزیرے کے اردگرد سمندری علاقوں میں تیل کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے جس کے بعد شاہِ ایران کے دور میں اسے باقاعدہ طور پر ایران کا مرکزی آئل ٹرمینل بنا دیا گیا۔ جس کے بعد سے یہ ایران کی معیشت کا ’اٹوٹ انگ‘ سمجھا جاتا ہے۔

جزیرہ خارگ کو اس کی ساخت اور بنیاد کی وجہ سے ’مرجانی جزیرہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

معروف ایرانی ادیب جلال آل احمد نے اس جزیرے پر باقاعدہ ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے اس جزیرے کے لیے ’خلیج فارس کا یتیم موتی‘ (جزیرہ خارک، دُرِّ یتیمِ خلیج) کی اصطلاح استعمال کی اور یہی کتاب کا عنوان بھی ہے۔

جلال آل احمد نے اپنی کتاب میں اس جزیرے کی منفرد ساخت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’یہ جزیرہ مٹی سے نہیں بلکہ مرجان کی تہوں سے بنا ہے، اسی لیے اس کی زمین سخت اور چٹانی ہے اور اس کے گرد سمندر اتنا گہرا ہے کہ دنیا کے بڑے جہاز اس کے سینے سے لگ کر کھڑے ہو سکتے ہیں‘۔

ارضیاتی ماہرین کے مطابق یہ جزیرہ ایک ’سالٹ ڈوم‘ (نمک کی چٹان) کے اوپر بنا ہوا ہے جس کی اوپری سطح لاکھوں سالوں کے دوران ’مرجانی چٹانوں‘ کے جمع ہونے سے بنی ہے‘۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی زمین دیگر ریگستانی جزیروں کے مقابلے میں بہت سخت اور سمندر کے اندر بہت گہری ہے۔

یہ جزیرہ مذہبی اور ثقافتی تنوع کی بھی مثال ہے جہاں زرتشتی، عیسائی اور ساسانی دور کے قبرستان ایک ہی جگہ پر موجود ہیں۔

ایران کی معیشت کا مرکز

ایرانی ساحل سے 28 کلومیٹر اور آبنائے ہرمز سے سے تقریباً 483 کلومیٹر شمال مغرب پر واقع خارگ جزیرہ ایران کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ جزیرہ ہر سال تقریباً 950 ملین بیرل خام تیل کی ترسیل سنبھالتا ہے جو ایران کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد بنتا ہے۔

تقریباً 8 کلومیٹر لمبے اور 4 سے 5 کلومیٹر وسیع اس جزیرے کے اردگرد گہرا سمندر موجود ہے جس کی وجہ سے یہاں بڑے سپر ٹینکر آسانی سے لنگر انداز ہو سکتے ہیں اور زیادہ تر ایشیائی ممالک خصوصاً چین، جنوبی کوریا، جاپان تیل لے کر جاتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق یہاں قائم ٹرمینل ملک کے توانائی شعبے کا اعصابی مرکز ہیں جہاں تین بڑے آف شور آئل فیلڈز، ابوذر، فروزان اور دورود سے خام تیل پائپ لائنوں کے ذریعے لایا جاتا ہے۔

بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایران نے جزیرے کے انفراسٹرکچر کو مسلسل وسعت دی ہے۔ مئی 2025 میں رپورٹ کیا گیا کہ تہران نے ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں مزید 20 لاکھ بیرل کا اضافہ کیا ہے۔

ایران عراق جنگ کے دوران اس جزیرے پر شدید بمباری کی گئی تھی جس کے بعد اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ آج بھی بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث خارگ جزیرہ سخت فوجی نگرانی میں ہے اور سیاحوں کے لیے تقریباً بند ہے۔

امریکا نے ایسے وقت میں اس جزیرے پر موجود ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو چکی ہیں۔

ایران اوپیک ممالک میں تیسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جو روزانہ تقریباً 3.3 ملین بیرل خام تیل اور 1.3 ملین بیرل کنڈنسیٹ اور دیگر مائع پیدا کرتا ہے جو عالمی تیل کی تقریباً 4.5 فیصد سپلائی کے برابر ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے جے پی مورگن اور ماہرینِ توانائی کے مطابق جزیرہ خارک پر حملہ محض ایران کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے ایک ’ایٹمی دھماکے‘ جیسا معاشی اثر رکھتا ہے۔

یہاں موجود لاکھوں گیلن خام تیل کے ذخائر پر حملے سے خلیج فارس میں ایسی ماحولیاتی تباہی پھیل سکتی ہے جس سے سمندری حیات اور خطے کے ممالک کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی (ڈی سیلینیشن پلانٹس) شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔

امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں میں تیل کی پیداوار میں کمی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، جس میں عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پیداوار میں کمی کے اثرات شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خارک پر حملے کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ’آخری وار‘ سمجھا جاسکتا ہے کیوں کہ اس کے بعد سفارت کاری کے تمام دروازے بند اور عالمی توانائی جنگ کے شروع ہونے کا یقین ہو جائے گا۔

جے پی مورگن نے اپنے تجزیے میں خبردار کیا ہے کہ خارک پر حملوں کی صورت میں ایران کی خام تیل برآمدات رک جائیں گی جس کے نتیجے میں تہران کی طرف سے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر شدید جوابی حملے ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے۔

Read Entire Article