Times of Pakistan

ایران کا امریکی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ، جواباً خطے میں امریکی فوجی اڈے نشانہ

3 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔

آبنائے ہرمز اور اس کے قریبی علاقوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ساحلی علاقے سریک میں خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کے بعد امریکی اور ایرانی حکام کی طرف سے ایک دوسرے پر حملوں کے بڑے بڑے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فضائی حملے ایران کی طرف سے ایک تجارتی جہاز پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیے ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق ایران نے 25 جون کو سنگاپور کے ایک مال بردار تجارتی جہاز کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا تھا، جو کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسی لیے امریکی فوج نے بدلہ لینے کے لیے ایران کے ان ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جہاں انہوں نے اپنے ریڈار اور ڈرون ذخیرہ کر رکھے تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سخت لہجے میں وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج خطے میں پوری طرح الرٹ ہیں اور بین الاقوامی تجارتی راہداری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، بلکہ سمندر میں بحری آمدورفت کی آزادی اور تجارتی جہازوں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

دوسری طرف ایران کی سب سے بڑی عسکری قوت یعنی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک پر ہونے والے اس امریکی حملے کو پوری طرح پسپا اور ناکام کر دیا ہے۔

ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں کے جواب میں انہوں نے بھی کارروائی کی ہے اور اس پورے خطے میں موجود امریکی فوج کے اڈوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم، پاسدارانِ انقلاب نے ان امریکی اڈوں کے نام، حملے کی نوعیت یا وہاں ہونے والے کسی بھی قسم کے نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے آرٹیکل پانچ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنا اور سنبھالنا صرف ایران کی ذمہ داری ہے۔

ایرانی فوجی قیادت نے امریکا کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حملے دوبارہ دہرائے گئے تو ایران کا ردِعمل اس سے زیادہ وسیع اور فیصلہ کن ہوگا کیونکہ امریکی کارروائیاں خطے میں کشیدگی بڑھانے کے مترادف ہیں، اور ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

اس بڑے حملے سے پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سنگین نتائج بھگتنے کا اشارہ دے دیا تھا۔ جب ایران کی طرف سے مال بردار جہاز پر ڈرون حملہ کیا گیا تو واشنگٹن میں ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ امریکا اس پر کیا کرے گا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ”آپ کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا، تہران کو اس حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔“

اسی طرح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو بہت سخت پیغام بھیجا ہے اور سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تشدد کا جواب تشدد سے ہی دیا جائے گا۔

جے ڈی وینس نے ایران کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کو مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی اختلاف یا شکایت ہے تو وہ فون اٹھا کر بات کر سکتے ہیں، نہ کہ تشدد کا راستہ اختیار کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کشیدگی میں اضافے کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، تاہم تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی بحری راستوں پر حملوں کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

امریکا کے ان بیانات اور حملوں پر ایران کے اندر سے بھی شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکا پر دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کر دیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں امریکی صدر پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ناکام امریکی صدر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو مذاکرات کے اصولوں کا پابند ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرتا ہے۔

ابراہیم عزیزی نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی، ہمیشہ کی طرح، آخرکار خود امریکا کے لیے ہی پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گی اور اب امریکا کا یہ الزام تراشی کا کھیل مزید نہیں چلے گا۔

Read Entire Article