ARTICLE AD BOX
تہران:
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یا فریق مخالف کی جانب سے غیر ضروری اور سخت مطالبات سامنے آئے تو ایران بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے واضح کیا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے معاہدے کی شقوں اور شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس پر سنجیدگی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ گوشبفرمانیم، وظیفهٔ محولشده به ما توسط مقام معظم رهبری پیگیری تحقق شروط و بندهای تفاهم است.
در صورت بدعهدی، پیمانشکنی و زیادهخواهی طرف مقابل هیچ تردیدی در پاسخ کوبنده به دشمن نداریم.
یکبار در جنگ سیلی خوردند، اگر بخواهند دوباره همان مسیر را بروند سیلی محکمتری خواهند خورد. انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے میں بد نیتی دکھائی گئی یا فریق مخالف نے وعدوں کی خلاف ورزی کی تو ایران سخت مؤقف اختیار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کی صورت میں جوابی ردعمل نہ صرف فوری ہوگا بلکہ پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران ماضی میں بھی جنگی حالات میں اپنے مؤقف پر قائم رہا ہے اور اگر دوبارہ اسی راستے پر مجبور کیا گیا تو اس بار جواب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر صورتحال میں مؤثر ردعمل دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
.png)
20 hours ago
2







English (US) ·