Times of Pakistan

ایران نے ثالثوں کے ذریعے ملنے والی امریکی تجاویز مسترد کر دیں

2 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

امریکی وفد کی جانب سے ایسے مطالبات پیش کیے گئے تھے جنہیں تسلیم کرنا ایران کے لیے ممکن نہیں تھا: نائب وزیرِ خارجہ ایران

شائع 28 جولائ 2026 08:05am

ایران نے ثالثوں کے ذریعے پیش کی جانے والی امریکا کی نئی تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں شروع ہونے والے ان مذاکرات میں امریکی وفد کی جانب سے ایسے مطالبات پیش کیے گئے تھے جنہیں تسلیم کرنا ایران کے لیے ممکن نہیں تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، کاظم غریب آبادی نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکا نے بات چیت کے دوران شرط عائد کی تھی کہ اگر ان کا منصوبہ قبول نہ کیا گیا تو مذاکرات کو ناکام تصور کیا جائے گا اور امریکی وفد واپس چلا جائے گا۔

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ”ایرانی وفد کی جانب سے بات چیت جاری رکھنے کے لیے کوئی منت یا اصرار نہیں کیا گیا، جو کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی باوقار سفارت کاری کے اصول کی بہترین مثال ہے“۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر سفارتی راستے پر گامزن ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عمان میں ہونے والی ثانوی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی نائب وزیر خارجہ نے بتایا کہ دو ہفتے قبل امریکی اقدامات کے جواب میں بحری راستے کی دوبارہ ناکہ بندی کے بعد عمان میں بھی گفتگو ہوئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مخالف فریق کی خواہش تھی کہ عمان مذاکرات کے حتمی نتیجے تک تجارتی جہازوں کے لیے جنوبی بحری راہداری کو کھلا رکھا جائے، لیکن ایران نے اس کی تجویز کو بھی رد کر دیا۔

کاظم غریب آبادی نے ایران کے سخت موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے واضح طور پر بیان کر دیا ہے کہ مذاکرات کے نتائج چاہے کچھ بھی ہوں، جنگ کے آغاز سے ہی ایران کی بنیادی پالیسی طے شدہ ہے اور اس قسم کی تجاویز ناقابلِ قبول ہیں“۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مکمل اور سخت ناکہ بندی کی پالیسی بدستور جاری رہے گی، اور ایران اپنے فیصلوں پر مکمل طور پر قائم ہے۔

Read Entire Article