ARTICLE AD BOX
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی دیگر ممالک کی درخواست پر کی گئی، جس میں انہوں نے خاص طور پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کا نام لے کر تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کر دے تو امریکا ڈیل کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے دورۂ چین کے بعد اپنے خصوصی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ براہِ راست اپنی ترجیح پر نہیں بلکہ دیگر ممالک کی درخواست پر کیا۔
انہوں نے کہا ’ہم نے دیگر ممالک کی درخواست پر یہ اقدام اٹھایا، خاص طور پر پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست کی گئی تھی۔ میں ذاتی طور پر اس کے حق میں زیادہ نہیں تھا، لیکن ہم نے اسے ایک رعایت کے طور پر قبول کیا‘۔
انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ اسی گفتگو میں انہوں نے مستقبل کے ممکنہ اقدامات کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ صورت حال کے مطابق امریکا کو ایران میں تھوڑا سا ’کلین اپ‘ دوبارہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تائیوان کے معاملے پر کسی بھی طرح کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا چینی صدر نے تائیوان کے معاملے پر امریکا کے ساتھ کسی ممکنہ جنگ یا تصادم کا اشارہ دیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ اس معاملے پر کسی جنگ کا کوئی امکان موجود ہے‘۔
تائیوان کو مستقبل میں امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے آنے والے وقت میں خود تعین کریں گے کہ کیا فیصلہ کرنا ہے۔
دوسری جانب، چینی حکومت کی جانب سے اس ملاقات کے حوالے سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو سختی سے خبردار کیا تھا کہ تائیوان کا معاملہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی کا سبب بن سکتا ہے۔
.png)
47 minutes ago
1






English (US) ·