Times of Pakistan

انویسٹ پاک: عام شہری حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری کیسے کر سکتے ہیں؟

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

انویسٹ پاک پورٹل کے ذریعے اب صرف 5 ہزار روپے سے براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔

شائع 09 جولائ 2026 07:21pm

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ’انویسٹ پاک‘ کے نام سے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے اب عام صارفین بھی صرف پانچ ہزار روپے سے براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری طویل عرصے تک زیادہ تر بینکوں اور بڑے مالیاتی اداروں تک محدود سمجھی جاتی تھی تاہم اس منصوبے کے بعد عام شہریوں، نوجوانوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو حکومتی سیکیورٹیز تک محفوظ، آسان اور مکمل طور پر ڈیجیٹل رسائی فراہم کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 6 جولائی کو کراچی میں ’انویسٹ پاک‘ پورٹل کا افتتاح کرتے ہوئے اسے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان، شفاف اور مؤثر بنائے گا۔

آخر یہ پلیٹ فارم کیسے کام کرتا ہے، اس کے ذریعے کن حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے اور یہ نظام پہلے سے کس طرح مختلف ہے؟ ان سوالات کا جواب جاننے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حکومتی سیکیورٹیز یا بانڈز ہوتے کیا ہیں۔

حکومتی سیکیورٹیز کیا ہوتی ہیں؟

دنیا بھر میں حکومتوں کو اکثر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکس آمدن سے زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں حکومت صرف بیرونی قرض لینے یا نئی کرنسی چھاپنے کے بجائے مختلف سرمایہ کاروں سے بانڈز کے ذریعے قرض حاصل کرتی ہے۔

حکومتی سیکیورٹی دراصل ایک مالیاتی معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت حکومت سرمایہ کار سے ایک مقررہ مدت کے لیے رقم حاصل کرتی ہے اور اس کے بدلے یہ ضمانت دیتی ہے کہ وہ طے شدہ شرائط کے مطابق منافع ادا کرے گی اور مدت پوری ہونے پر اصل سرمایہ واپس کرے گی۔

سرمایہ کار کو منافع کس صورت میں ملے گا؟ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس نے کس قسم کی سیکیورٹی خریدی ہے۔ بعض سیکیورٹیز پر مقررہ وقفوں سے منافع ادا کیا جاتا ہے جب کہ بعض میں منافع خریداری کی قیمت اور میعاد پوری ہونے پر وصول ہونے والی رقم کے فرق سے حاصل ہوتا ہے۔

چوں کہ ان سیکیورٹیز کی ادائیگی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے پاکستان میں اسے عمومی طور پر محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے۔

سرمایہ کاری کیسے کریں؟

انویسٹ پاک کے ذریعے انفرادی سرمایہ کار، مشترکہ اکاؤنٹ رکھنے والے افراد، کمپنیاں اور دیگر کارپوریٹ ادارے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

یعنی ہر وہ پاکستانی شہری، چھوٹے سرمایہ کار اور کارپوریٹ کمپنیاں جن کا کسی بھی بینک میں اکاؤنٹ موجود ہے، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ رکھنے والے اوورسیز پاکستانی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جس کے لیے انویسٹ پاک کے پورٹل پر رجسٹر ہونا لازمی ہے۔

رجسٹریشن کا طریقہ کار

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے انویسٹ پاک پورٹل کے ذریعے سرمایہ کاری کا طریقہ کار انتہائی آسان اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ہے۔ انویسٹ پاک پورٹل پر گھر بیٹھے رجسٹریشن اور آئی پی ایس اکاؤنٹ بنانے کے بعد ہم سرمایہ کاری شروع کر سکتے ہیں۔

  • سب سے پہلے ویب سائٹ کے ذریعے یا ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے اس پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں۔
  • رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ نمبر، ای میل اور موبائل نمبر سمیت درکار معلومات درج کریں۔
  • اپنے موجودہ بینک اکاؤنٹ کا 24 ہندسوں والا انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ نمبر (IBAN) درج کریں۔ سسٹم یہ معلومات تصدیق کے لیے آپ کے بینک کو بھیجے گا۔
  • بینک سے تصدیق ہوجانے کے بعد آپ کے رجسٹرڈ موبائل نمبر اور ای میل پر ایک ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) موصول ہوگا، جسے درج کر نے پر آپ کی تصدیق مکمل ہوجائے گی۔

آئی پی ایس (انویسٹر پورٹ فولیو سیکیورٹیز) اکاؤنٹ

جس طرح آپ کو اپنے پیسے رکھنے کے لیے ایک عام بینک اکاؤنٹ (کرنٹ یا سیونگ اکاؤنٹ) کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح حکومتی سیکیورٹیز کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ رکھنے کے لیے سرمایہ کاری کے لیے ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ ہونا لازمی ہوتا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین کے مطابق، کوئی بھی عام شہری ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ کے بغیر براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز خرید یا رکھ نہیں سکتا۔

اگر آپ کا پہلے سے کوئی ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ نہیں ہے تو پورٹل پر رجسٹریشن کے دوران ہی آپ آن لائن ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ کھولنے کی درخواست بھی جمع کروا سکتے ہیں، جس کے لیے اب بینک جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

جب آپ ’انویسٹ پاک‘ پورٹل کے ذریعے کوئی سرکاری بانڈ خریدتے ہیں تو وہ بانڈ کاغذ کی شکل میں نہیں ملتا بلکہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کی صورت میں آپ کے اسی ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ میں جمع ہو جاتا ہے۔

حکومتِ پاکستان کی اہم سیکیورٹیز

انویسٹ پاک پورٹل پر حکومت سرمایہ کاروں کو مختلف سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جسے آپ گھر بیٹھے خرید یا فروخت کر سکتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر سرمایہ کاروں کو مارکیٹ ٹریژری بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور اجارہ سکوک کی صورت میں حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔

مارکیٹ ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز)

یہ مختصر مدت کے بانڈز ہوتے ہیں جن کی مدت عام طور پر تین، چھ یا بارہ ماہ ہوتی ہے۔ ان پر الگ سے کوئی منافع ادا نہیں کیا جاتا بلکہ یہ اصل مالیت سے کم قیمت پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ یعنی سرمایہ کار کم قیمت پر بانڈ خریدتا ہے اور مقررہ مدت کے بعد فروخت کی صورت میں اسے مکمل قیمت وصول ہو جاتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی سرمایہ کار 4 ہزار روپے میں ایک ٹریژری بل خریدتا ہے تو میعاد پوری ہونے پر اسے 5 ہزار روپے ملتے ہیں۔ خریداری اور واپسی کی رقم کے درمیان ایک ہزار روپے کا فرق ہی اس کا منافع ہوتا ہے۔

پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز)

یہ درمیانی اور طویل مدتی بانڈز ہوتے ہیں جن کی مدت عموماً 2 سے 10 سال یا اس سے زائد بھی ہو سکتی ہے۔ ان بانڈز پر حکومت ہر چھ ماہ یا تین ماہ بعد منافع ادا کرتی ہے جب کہ مدت مکمل ہونے پر اصل سرمایہ واپس کر دیا جاتا ہے۔ ان بانڈز پر منافع طے شدہ (فکسڈ کوپن) بھی ہو سکتا ہے اور وقت کے ساتھ تبدیل (فلوٹنگ ریٹ) بھی ہو سکتا ہے۔

فکسڈ کوپن بانڈز پر منافع کی شرح سرمایہ کاری کے پہلے دن ہی مستقل طور پر طے ہو جاتی ہے اور ہر 6 ماہ بعد اسی قیمت پر منافع ملتا رہتا ہے جب کہ فلوٹنگ ریٹ بانڈز پر منافع کی شرح مارکیٹ کے حالات اور اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق وقت کے ساتھ اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ پورٹل پر 3 ماہ کے وقفے سے منافع حاصل کرنے کے خواہش مندوں کے لیے بھی آپشنز موجود ہیں۔

اجارہ سکوک

اجارہ سکوک بانڈز روایتی بانڈز کا متبادل ہیں اور شرعی اصولوں کے مطابق ترتیب دیے ہوتے ہیں۔ ان میں سرمایہ کار سود کے بجائے حکومت کے اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن شریعت کے مطابق بطور منافع وصول کرتے ہیں۔

حکومتی سیکیورٹیز کے فوائد

حکومتی سیکیورٹیز کو عام طور پر نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کی ادائیگی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لہٰذا منافع یقینی ہوتا ہے کیوں کہ بینک تو ڈیفالٹ کر سکتے ہیں مگر حکومت کے ڈیفالٹ کا چانس نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

ان بانڈز کے ذریعے سرمایہ کاروں کو مقررہ وقفے سے باقاعدہ منافع ملتا رہتا ہے جو مستقل آمدنی کے خواہش مند افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

سرمایہ کار ضرورت پیش آنے پر بانڈ کی مدت پوری ہونے سے قبل سیکنڈری مارکیٹ میں فروخت کر کے بھی اپنی رقم واپس حاصل کرسکتے ہیں۔ اسکے علاوہ حکومتی سیکیورٹیز کی قیمتوں میں عموماً اسٹاک مارکیٹ میں بھی کم اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے۔

سرمایہ کار اپنی ضرورت کے مطابق مختصر، درمیانی یا طویل مدت، روایتی یا اسلامی سرمایہ کاری میں سے کسی کا بھی انتخاب کر سکتا ہے۔

منافع کیسے ملتا ہے؟

حکومتی سیکیورٹیز پر منافع ملنے کا طریقہ کار انتہائی شفاف، خودکار اور محفوظ ہے۔ منافع کا دارومدار اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ نے کس قسم کی سیکیورٹی میں سرمایہ کاری کی ہے۔

آپ کو منافع کس شکل میں اور کب ملے گا، اس کا انحصار آپ کے منتخب کردہ پلان پر ہوتا ہے۔ مثلاً اگر آپ نے 3، 6 یا 12 ماہ کے ٹی بلز میں سرمایہ کاری کی ہے تو منافع ’رعایتی قیمت‘ کی صورت میں مقررہ تاریخ پر آپ کے دیے گئے بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہوجائے گا۔

اگر آپ نے 2 سے 10 سال کے طویل مدتی بانڈز لیے ہیں تو حکومت آپ کو ہر 6 ماہ بعد باقاعدگی سے منافع (کوپن پیمنٹ) آپ کے اکاؤنٹ میں بھیجتی رہے گی۔ جب بانڈ کی کل مدت پوری ہوگی تو آپ کی مکمل رقم بھی واپس مل جائے گی۔

انویسٹ پاک پلیٹ فارم ایسے سرمایہ کاروں کے لیے موزوں ہو سکتا ہے جو نسبتاً کم خطرے والی سرمایہ کاری، متوقع آمدنی یا اپنے سرمائے کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں اور بانڈ کو اس کی میعاد پوری ہونے تک رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اب آپ محض پانچ ہزار روپے سے بھی سرمایہ کاری شروع کر سکتے ہیں۔ ماضی میں یہ سہولت صرف بینکوں اور اداروں تک محدود تھی۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ حکومتی بانڈز نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں تاہم اس قسم کی سرمایہ کاری میں بھی کچھ نہ کچھ خطرات موجود رہتے ہیں۔

ماہرِ معاشیات اور ریونیو کنسلٹنٹ انعم سعید نے انویسٹ پاک کے ممکنہ فوائد اور خدشات، دونوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام سرمایہ کاری تک رسائی کو آسان بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے تاہم اس کی کامیابی کا انحصار عوامی دلچسپی، آگاہی اور پلیٹ فارم کی مؤثر کارکردگی پر ہوگا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تجزیے میں انعم سعید نے کہا کہ ماضی میں حکومت عوام سے بالواسطہ طور پر بینکوں کے ذریعے قرض حاصل کرتی رہی جب کہ اب یہی عمل ایک باقاعدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے عام سرمایہ کاروں کے لیے بھی دستیاب ہے۔

انعم سعید کے مطابق اس نئے نظام کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ سرمایہ کار اب آئی پی ایس (انویسٹر پورٹ فولیو سیکیورٹیز) اکاؤنٹ ڈیجیٹل طریقے سے کھول سکیں گے، جس کے لیے بینک کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ دوسرا یہ کہ سرمایہ کار اب حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی سیکیورٹیز کی نیلامیوں میں بھی براہِ راست بولی دے سکیں گے، جس کے لیے پہلے بینکوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔

تاہم انعم سعید نے اس نظام سے متعلق چند چیلنجز کی بھی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق اس وقت بھی تقریباً 78 فیصد حکومتی سیکیورٹیز بینکوں کے پاس موجود ہیں، اس لیے ابھی یہ واضح نہیں کہ عام سرمایہ کار اس نظام کو کس حد تک اختیار کریں گے۔

ان کے بقول ایک اور اہم مسئلہ عوامی آگاہی ہے کیوں کہ اب تک سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ رسائی سے زیادہ معلومات اور شعور کی کمی رہی ہے، لہٰذا صرف ایک نئی ایپ متعارف کرانے سے یہ مسئلہ خودبخود حل نہیں ہوگا۔

انعم سعید کا کہنا تھا کہ اب عام صارف چند مراحل میں حکومت کو براہِ راست قرض دے سکیں گے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ سب کچھ سرمایہ کار کے پورٹ فولیو کے لیے واقعی فائدہ مند ثابت ہوگا یا صرف اسی سسٹم کو آسان بنایا جارہا ہے جو بینک پہلے سے ہی کر رہے ہیں۔

Read Entire Article