Times of Pakistan

انمول پنکی کے خلاف منشیات کے مقدمے کا چالان عدالت میں جمع، سنسنی خیز انکشافات

1 hour ago 4
ARTICLE AD BOX

پولیس نے 5 ملزمان کو مفرور قرار دے دیا، ان ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں

کراچی میں انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرادیا گیا ہے جب کہ پولیس نے 5 ملزمان کو مفرور قرار دے دیا، ان ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں۔

چالان کے مطابق ملزمہ انمول عرب پنکی 16 سال سے منشیات کی تیاری میں ملوث ہے، ملزمہ نے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے کوکین کی تیاری سیکھی اور پھر طلاق کے بعد منشیات کا اپنا کام شروع کردیا، ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کر رہائش اختیار کرتی۔

چالان میں بتایا گیا کہ ابتدا میں پنکی نے شریک ملزمہ صابرہ کے ذریعے لوکل بسوں سے کوکین کراچی بھیجی، ملزمہ صابرہ کو ایک پھیرے کے 50 ہزار روپے ادا کیے جاتے۔2019 میں اکاؤنٹ منجمد ہونے کے بعد پنکی نے صابرہ کے نام پراکاؤنٹ کھولے، صابرہ گرفتار ہوئی تو حمیرا کو استعمال کیا، ایک اور شریک ملزمہ اینا فی چکر 70 ہزار روپے وصول کرتی تھی، کراچی سے 3 رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے۔

چالان کے مطابق ملزمہ پنکی منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی اوراپنے خریداروں کو ذیشان اور سہیل کے اکاؤنٹس نمبر دیتی تھی، ملزم ذیشان رقم کی وصولی کے اسکرین شاٹ بھیجتا تو پنکی رائیڈرز کے ذریعے منشیات گاہک کو بھیج دیتی۔ ملزم ذیشان کے 5 اور سہیل کے 2 اکاؤنٹس سامنے آئے، ذیشان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں سے زائد کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا۔

چالان میں مزید کہا گیا کہ پنکی نے ملزم سمیر کے نام پر بھی مختلف اکاؤنٹ کھلوا رکھے تھے، پنکی کے قبضے سے اسی ملزم سمیر کا اے ٹی ایم کارڈ بھی برآمد ہوا، پنکی کے لاہور کے بینک اکاؤنٹ میں چھ کروڑ انتالیس لاکھ کی رقم موجود تھی، ملزمہ سادہ کوکین 20 ہزار روپے جب کہ گولڈن سٹف 40 ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی، کراچی اور لاہور میں ملزمہ کے خلاف ستائس مقدمات درج ہیں۔

تفتیشی افسر کا کہنا کہ ملزمہ کی ٹریول ہستی حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے جب کہ اس سے برامد شدہ منشیات اور دیگر اشیاء کی کیمیکل معائنہ کروایا گیا، اداروں کی جانب سے جوابات موصول ہونے کے بعد حتمی چالان جمع کروادیا جائے گا۔

دوسری جانب کراچی میں بدنام زمانہ خاتون اسمگلر ’پنکی‘ کے بعد ساؤتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور بڑے گینگ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دورانِ تفتیش ملزم نے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے انڈوں کے خول استعمال کرنے کا ایسا انکشاف کیا ہے جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی چونکا کر رکھ دیا ہے۔

کراچی میں منشیات کی اسمگلنگ اور سپلائی کے ایک مبینہ نئے طریقہ کار کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ساؤتھ زون پولیس کے ہاتھوں گرفتار ملزم شاہ فہد نے دورانِ تفتیش دعویٰ کیا ہے کہ منشیات کی خرید و فروخت اور ترسیل ایک منظم طریقہ کار کے تحت کی جاتی تھی، جس میں انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے۔

ملزم کے مطابق تمام لین دین اور رابطے واٹس ایپ کے ذریعے انجام دیے جاتے تھے جب کہ وہ مبینہ طور پر پشاور میں موجود ایک شخص بلال سے منشیات حاصل کرتا تھا۔

گرفتار ملزم نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص انڈوں کے ذریعے منشیات سپلائی کرتا تھا اور سامان کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ تک پہنچایا جاتا تھا۔

شاہ فہد کے مطابق وہ ایک انڈہ 2 لاکھ 10 ہزار روپے میں خریدتا تھا، جبکہ ایک انڈے میں تقریباً 20 گرام منشیات موجود ہوتی تھی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ہر تین سے چار روز بعد دو سے تین انڈوں کی کھیپ موصول ہوتی تھی۔

ملزم کے مطابق منشیات آگے مختلف رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کی جاتی تھی اور اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ رائیڈرز کو اصل نیٹ ورک یا سپلائرز کے بارے میں معلومات نہ ہوں۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم کے انکشافات کی روشنی میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

Read Entire Article