ARTICLE AD BOX
یہ وائرس جانوروں سے انسان میں منتقل ہو کر اس کے دفاعی نظام کو کم زور کر دیتا ہےفوٹو: فائل 
کووڈ کیسز کے دوران انفلوئنزا اے میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس سے بچنے کے لیے ماہرین نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ بھارت کے بعض علاقوں میں کووڈ-19 کے نئے کیسز سامنے آنے کے ساتھ ہی انفلوئنزا اے کے کیسز میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس سے بچنے کےلیے ماہرینِ صحت نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر امیت تھاڈانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام جاری کیا ہے کہ ممبئی میں انفلوئنزا اے کے کیسز غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہے ہیں، جو وبا جیسی صورتحال اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو ہجوم والی جگہوں پر ماسک پہننے کا مشورہ بھی دیا۔ دوسری جانب کیمس اسپتال تھانے کے سینئر کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ ڈاکٹر مناس مینگر نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انفلوئنزا اے کے مریضوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ مون سون اور سردیوں میں اس وائرس کا پھیلاؤ معمول کی بات ہے، تاہم اس بار اس کے کیسز نسبتاً زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انفلوئنزا اے کیا ہے؟ گلینیگلز اسپتال، ممبئی کے ڈائریکٹر شعبہ پلمونولوجی و لنگ ٹرانسپلانٹ ڈاکٹر سمیر گارڈے کے مطابق انفلوئنزا اے ایک وائرل انفیکشن ہے جو کھانسی، چھینک یا بات کرتے وقت خارج ہونے والے قطروں سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور مریض چند گھنٹوں میں شدید بیمار محسوس کرسکتا ہے۔ کووڈ اور انفلوئنزا میں فرق کیسے کریں؟ ڈاکٹر سمیر گارڈے کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا اے اور کووڈ-19 کی علامات کافی حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر دونوں میں فرق کرنا آسان نہیں۔ اگر علامات شدید ہوں، کئی دن تک برقرار رہیں یا مریض خطرے والے گروپ میں شامل ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ علامات اور خطرے سے دوچار افراد ماہرین کے مطابق انفلوئنزا اے کی عام علامات میں تیز بخار، جسم درد، گلے میں خراش، خشک کھانسی، سر درد اور شدید تھکن شامل ہیں۔ زیادہ تر صحت مند افراد 5 سے 7 روز میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم بزرگ افراد، حاملہ خواتین، کم عمر بچے، ذیابیطس، دمہ، دل کے امراض یا کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد میں نمونیا سمیت دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ کیسز کیوں بڑھ رہے ہیں؟ ڈاکٹر مناس مینگر کے مطابق بار بار سفر، ہجوم والی بند جگہیں، موسم میں تبدیلی اور بعض افراد کی کمزور قوتِ مدافعت وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی اہم وجوہات ہیں۔ ماہرین کی احتیاطی ہدایات ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں، کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپیں، طبیعت خراب ہونے کی صورت میں ہجوم والی جگہوں پر ماسک پہنیں، گھروں اور دفاتر میں مناسب ہوا کی آمدورفت کا انتظام رکھیں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر دوسروں سے فاصلہ اختیار کریں۔ انہوں نے موسمی انفلوئنزا کی ویکسین کو بھی، خاص طور پر خطرے سے دوچار افراد کے لیے، مؤثر حفاظتی اقدام قرار دیا ہے۔
.png)
13 hours ago
1





English (US) ·