Times of Pakistan

انسانی خون میں چھپے دائمی کیمیکلز، کیا آپ بھی خطرے میں ہیں؟

48 minutes ago 1
ARTICLE AD BOX

اس ریسرچ میں امریکا کی ایک معروف تجربہ گاہ کے محققین نے 10 ہزار سے زائد خون کے نمونوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔

جدید دور میں انسان نے جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت بے پناہ آسائشیں حاصل کی ہیں، وہیں نادانستہ طور پر کچھ ایسے عناصر کو بھی جنم دیا ہے جو اب خود اس کی بقا کے لیے ایک خاموش خطرہ بن چکے ہیں۔

ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ دنیا میں مصنوعی طور پر تیار کردہ کیمیکلز اب انسان کے وجود کا حصہ بن چکے ہیں، یہ کیمیکلز انسانی جسم میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔

ان کیمیکلز کوعام زبان میں ”فور ایور کیمیکلز“ کہا جاتا ہے، اور سائنسی طور پر انہیں ”پی ایف اے ایس“ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑی کیمیکل فیملی ہے جس میں ہزاروں اقسام شامل ہیں۔

یہ کیمیکلز اپنی خصوصیات کی وجہ سے بہت مفید سمجھے جاتے رہے ہیں، کیونکہ یہ پانی، گرمی اور چکنائی کے خلاف مزاحمت پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے انہیں کپڑوں، فرنیچر، کھانے کی پیکیجنگ اور کئی صنعتی اشیا میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ کیمیکلز ماحول میں ٹوٹتے نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ زمین، پانی اور خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور وہاں جمع ہوتے رہتے ہیں۔

یہ 15 ہزار سے زائد ایسے کیمیکلز کا مجموعہ ہے جو قدرتی طور پر آسانی سے ختم یا تحلیل نہیں ہوتے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ کیمیکلز ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہ کپڑوں، فرنیچر اور کھانے پینے کی اشیاء کی پیکنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آہستہ آہستہ ہماری خوراک، پانی اور پورے ماحولیاتی نظام میں شامل ہو چکے ہیں۔

امریکا کی ایک معروف تجربہ گاہ این ایم ایس لیبز کے محققین نے 10 ہزار سے زائد خون کے نمونوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ عام لوگ ایک ہی وقت میں کتنے مختلف اقسام کے کیمیکلز کا شکار ہو رہے ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ صرف 0.18 فیصد نمونے ایسے تھے جن میں صرف ایک ہی قسم کا کیمیکل پایا گیا، جبکہ اکثریت کے خون میں پانچ یا اس سے زیادہ مختلف کیمیکلز کا آمیزہ موجود تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ایک ساتھ اتنے سارے کیمیکلز کا انسانی جسم میں موجود ہونا ہماری صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران کیمیکل ”پی ایف ایچ ایکس ایس“ تقریباً 98 فیصد نمونوں میں پایا گیا، جو عام طور پر کپڑوں، فرنیچر اور گوند میں استعمال ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اب اس کے استعمال پر پابندی لگا رہے ہیں کیونکہ اس کیمیکل کے جگر اور مدافعتی نظام پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اس تحقیق میں صرف 13 عام کیمیکلز کی جانچ کی گئی تھی، اس لیے انسانی جسم میں ان کیمیکلز کی حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس ٹیسٹ سے صرف ان کیمیکلز کی موجودگی کا پتہ چلا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کتنی مقدار میں موجود ہیں۔

سائنسدان اب بھی اس بات کا حتمی تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کیمیکلز کی کتنی مقدار انسانی جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

جانوروں پر کی جانے والی مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کیمیکلز عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کرتے ہیں، دماغ میں تبدیلیاں لاتے ہیں اور بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، تاہم انسانوں پر اس کے براہِ راست اثرات کا سو فیصد ثبوت ملنا ابھی باقی ہے۔

ان کیمیکلز کو روزمرہ مصنوعات سے ہٹانا ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ چیزوں کو پانی، گرمی اور تیل سے محفوظ رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اب حکومتیں ان کے استعمال کو محدود کرنے اور محفوظ متبادل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ محققین نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معلومات مستقبل میں صحت عامہ کے رہنما اصول بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

Read Entire Article