Times of Pakistan

امریکا کے پاس اُڑن طشتریوں سے نکالی گئی 4 خلائی مخلوق ہیں: سابق سی آئی اے محقق کا دعویٰ

11 minutes ago 2
ARTICLE AD BOX

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے آغاز میں ان فائلز کو جاری کرنے کا حکم دیا تھا اور ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابق محقق نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت نے زمین پر گرنے والی اُڑن طشتریوں یعنی یعنی یو ایف اوز سے چار مختلف اقسام کی خلائی مخلوق کو اپنے قبضے میں لیا ہے۔ یہ دعویٰ سابق محقق ہال پوتھوف نے ایک مشہور پوڈکاسٹ ”دی ڈائری آف اے سی ای او“ میں کیا ہے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق ہال پوتھوف نے کہا کہ جن افراد نے مبینہ طور پر ان حادثات کے بعد ریکوری آپریشنز میں حصہ لیا، ان کے مطابق کم از کم چار اقسام کی غیر انسانی مخلوقات موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں خود براہ راست ان مخلوقات تک رسائی حاصل نہیں ہوئی، لیکن جن لوگوں سے انہوں نے بات کی، ان کی معلومات پر وہ یقین رکھتے ہیں۔

پوتھوف نے ان مخلوقات کی تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے قریبی ساتھی ایرک ڈیوس نے گزشتہ برس دعویٰ کیا تھا کہ ان چار اقسام کو گریز، نورڈکس، انسیکٹوئیڈز اور ریپٹیلینز کے نام دیے گئے ہیں۔

اسی پوڈکاسٹ میں فلم ساز ڈین فراح نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں متعدد ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں مبینہ طور پر غیر انسانی مخلوقات سے تعلق رکھنے والی پروازیں تباہ ہوئیں۔ ان کے مطابق کئی یو ایف اوز یا تو خود حادثے کا شکار ہو کر زمین پر گرے یا پھر کسی وجہ سے انہیں گرایا گیا، جس کے بعد امریکی اداروں نے ان کی بازیابی کی کارروائیاں کیں۔

تصویر: نیویارک پوسٹ

یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ ”ایلین فائلز“ کا پہلا حصہ جاری کیا ہے۔

امریکا میں حالیہ دنوں میں خلائی مخلوقات اور یو ایف اوز سے متعلق بحث میں تیزی آئی ہے۔ بہت سے یو ایف او ماہرین اور شوقین افراد کا ماننا ہے کہ ”ڈسکلوژر ڈے“ قریب ہے، یعنی وہ دن جب حکومتیں کئی دہائیوں سے چھپائے گئے شواہد عوام کے سامنے پیش کریں گی۔

رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر عوامی دلچسپی گزشتہ چند برسوں میں مسلسل بڑھی ہے اور یو ایف اوز اور خلائی مخلوقات سے متعلق گفتگو اب مرکزی دھارے میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے آغاز میں ان فائلز کو جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب سابق امریکی صدر براک اوباما کے ایک بیان کو بعض حلقوں نے خلائی مخلوقات کے وجود سے جوڑ کر دیکھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ ایلین فائلز کی نگرانی اور اجراء کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے، جس کی سربراہی امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کر رہے ہیں۔

ایرک ڈیوس کے مطابق ریپٹیلین اور انسیکٹوئیڈ نام اس لیے رکھے گئے کیونکہ ان مخلوقات کی شکل انسانوں کو رینگنے والے جانوروں یا کیڑوں جیسی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے بقول ان مخلوقات کا سر، دھڑ اور چار اعضا ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں انسان نما تصور کیا جاتا ہے۔

ڈیوس نے مزید دعویٰ کیا کہ ”گریز“ نامی مخلوقات 1947 میں پیش آنے والے مشہور روزویل یو ایف او حادثے میں برآمد ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق گریز تقریباً چار فٹ قد کی جبکہ نورڈکس عام انسانوں کی طرح پانچ سے چھ فٹ لمبی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریپٹیلینز اور انسیکٹوئیڈز کا قد بھی تقریباً اسی کے برابر ہوتا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ گریز کو چھوٹے قد، بڑی آنکھوں اور بغیر بالوں والی مخلوق کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جیسا کہ کئی ہالی ووڈ فلموں میں دکھایا گیا ہے۔ دوسری جانب ریپٹیلینز کو چھپکلی نما جلد، انسانی بازوؤں اور لمبی دم والی مخلوق قرار دیا جاتا ہے جو سیدھا چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تاہم اب تک امریکی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی آزادانہ اور حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ سائنسی حلقوں میں بھی ان بیانات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

Read Entire Article