ARTICLE AD BOX
رواں ہفتے تین راتوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے: امریکی سینٹرل کمانڈ
شائع 12 جولائ 2026 08:56am
امریکا نے ایران کے خلاف رواں ہفتے تیسری فضائی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر آبنائے ہرمز کے علاقے میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تازہ فضائی کارروائی امریکی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 15 منٹ پر شروع کی گئی۔
سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی فوج نے زمینی اور بحری اڈوں سے اڑنے والے جنگی طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں کے ذریعے انتہائی درست ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایران کے تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں، اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق رواں ہفتے تین راتوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ حملے کے باعث کنٹینر جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اس کے انجن روم کو بھی نقصان پہنچا۔
سینٹ کام نے کہا کہ یہ کارروائیاں کمانڈر اِن چیف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئیں تاکہ ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں پر حملے کر سکتا ہے۔
سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں قبرص کے پرچم بردار ایک کنٹینر جہاز پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کا ایک رکن لاپتا ہوگیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان فوجی کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز جیسے اہم بین الاقوامی بحری راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکا نے اس سے قبل بھی ایران کو تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد معاہدے اور مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کا موقع دیا تھا، تاہم ایران نے دوبارہ اس پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر فوجی کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جنوبی علاقوں عسلویہ اور بوشہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق چاہ بہار کے قریب بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر دھماکوں کی نوعیت، ان کے درست مقام یا کسی جانی و مالی نقصان سے متعلق کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی اور ایرانی حکام کے بیانات میں سامنے آنے والے دعووں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ خطے میں کشیدگی کے باعث صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·