Times of Pakistan

امریکا کے ایران پر حملے؛ 30 سے زائد عام شہری اور 7 فوجی جاں بحق، 260 سے زائد افراد زخمی

13 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

شائع 15 جولائ 2026 12:48pm

امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہوچکی کشیدگی کے پانچویں روز صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔ ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی ایران پر ہونے والے امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں اس جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کی یاد کو سلام پیش کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اپنی پوری طاقت کے ساتھ عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی کیونکہ جنوبی ایران اس سرزمین کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنوب مشرقی ایران میں واقع ایران شہر کے بمپور گیریژن پر امریکی میزائل حملوں میں سات ایرانی فوجی جاں بحق ہوئے ہیں۔

ایرانی فوج نے اس کارروائی کو بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جرم کا مناسب وقت پر فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، امریکی فوج کی جانب سے تیرہ میزائلوں کے ذریعے بمپور کی بیرکوں پر حملہ کیا گیا جس سے 388 ویں بریگیڈ کے سات اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی اقدامات کی وجہ سے جانی نقصان کو ایک حد تک محدود رکھنے میں مدد ملی، ورنہ امریکی حملوں کا مقصد گیسٹ ہاؤس، گارڈ پوسٹس اور رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنا کر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔

ان تازہ ترین حملوں میں بڑے پیمانے پر لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ایران کی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے بتایا کہ حالیہ امریکی حملوں میں 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 222 افراد کو ضروری طبی امداد کی فراہمی کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں، جبکہ ان مخصوص حملوں میں کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

واضح رہے کہ امریکی افواج نے ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پانچویں دن بھی لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔

Read Entire Article