Times of Pakistan

امریکا کی ایران پر نئے حملے کی تیاری؟ درجنوں اسلحہ بردار طیارے اسرائیل پہنچ گئے

16 minutes ago 1
ARTICLE AD BOX

ان ترسیلات کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاریوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق درجنوں امریکی کارگو طیارے جو جرمنی میں موجود اڈوں سے امریکی گولہ بارود لے کر آئے تھے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تل ابیب میں اُتارے گئے ہیں۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 13 نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ تمام پروازیں امریکی فوجی سامان اور گولہ بارود کی منتقلی کا حصہ تھیں، جو جرمنی میں موجود امریکی اڈوں سے روانہ ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان ترسیلات کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاریوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سنڈے گارجین کے مطابق اس سے قبل بھی مختلف ادوار میں ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے دوران امریکا کی جانب سے اسرائیل کو فوجی سامان کی فضائی ترسیل میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسی دوران امریکی سینیٹ کے سینئر ریپبلکن رکن سینیٹر لِنڈسی گراہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ ایران پر دباؤ بڑھایا جائے اور اگر تہران جوہری مذاکرات سے انکار کرے تو اس کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے۔

انہوں نے این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی توانائی کا نظام اس کا سب سے کمزور پہلو ہے اور اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو توانائی سے متعلق اہداف کو سب سے اوپر ترجیح دی جانی چاہیے۔

ان کے مطابق پرانی حکمت عملیوں کو دہرانے سے نتائج تبدیل نہیں ہوں گے، اس لیے زیادہ نقصان پہنچانا ضروری ہے تاکہ ایران مذاکرات پر مجبور ہو جائے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایران مذاکرات کو طول دے کر وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ادھر اسرائیل کی فوجی تیاریوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے ’کین‘ کے مطابق ملک کی فوج ہائی الرٹ پر ہے اور ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے باعث کسی بھی نئی امریکی کارروائی کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ ممکنہ طور پر ایرانی توانائی کے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان تقریباً 30 منٹ تک ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں ممکنہ فوجی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسی طرح چینل 12 نے بھی رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج چوکس ہے اور اسے کسی بھی ممکنہ امریکی حملے سے قبل پیشگی اطلاع ملنے کی توقع ہے، تاہم حتمی وقت واضح نہیں ہے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو چین سمیت بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ نئی فوجی کشیدگی کے بجائے ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی طرف جائیں۔

Read Entire Article