Times of Pakistan

امریکا میں پیٹرول کے ذخائر میں کمی؛ قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

12 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور ذخائر میں کمی سے امریکیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)


عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت تین ہفتوں کی بلند ترین سطح عبور کرتے ہوئے 110 ڈالر فی بیرل سے زائد ہوگئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی میں تاخیر ہے۔

تاہم سرمایہ کاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ اب پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں پر ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے زیادہ اثر زمینی حقائق یعنی تیل کی قلت ہے۔

اس حوالے سے تجزیہ کار نیل ولسن کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اب سفارتی بیانات کے بجائے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ سمندر میں تیل کی ترسیل کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت بھی تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی توانائی مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کے شکار مذاکرات دوبارہ شروع نہ ہوسکے ہیں لیکن ان خدشات کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

امریکا میں نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں کمی دیکھی گئی جبکہ یورپ میں معمولی بہتری اور ایشیا میں زیادہ تر مارکیٹس منفی رجحان پر بند ہوئیں۔

ادھر امریکا میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق اوسط قیمت 6 سینٹ اضافے کے بعد 4.18 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جو اگست 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

ماہرین نے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آئندہ ایک سے دو ہفتوں میں قیمتیں 4.30 ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا میں پیٹرول کے ذخائر بھی کم ہو رہے ہیں جو 250 ملین بیرل کی معمول کی سطح سے کم ہو کر 230 ملین بیرل سے نیچے آ چکے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکا مشرق وسطیٰ میں سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے ریکارڈ مقدار میں تیل اور ریفائنڈ مصنوعات برآمد کر رہا ہے جس سے اندرون ملک قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

خاص طور پر ریاست کیلیفورنیا میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے جو عوام کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔

Read Entire Article