ARTICLE AD BOX
ایرانی میڈیا کے مطابق ابتدائی فریم ورک میں تجارتی بحری آمد و رفت بحال کرنے کی شقیں شامل ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کے ابتدائی فریم ورک میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری ٹریفک بحال کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ایرانی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ مجوزہ فریم ورک کے تحت امریکا ایران کے اطراف سے اپنی فوجی موجودگی واپس لے گا، جب کہ ایران 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے کی اجازت دے گا۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ معاہدے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا، جنگی صورت حال کا خاتمہ اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کو معمول پر لانا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی ترسیل گزرتی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مجوزہ انتظام میں امریکی جنگی بحری جہاز شامل نہیں ہوں گے، جب کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کا نظام ایران عمان کے تعاون سے چلائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحری ٹریفک کی نگرانی اور سیکیورٹی کے لیے باہمی رابطہ کاری کا الگ طریقہ کار بھی زیر غور ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے پر حتمی پیش رفت سے قبل ’’عملی اور قابلِ تصدیق ضمانت‘‘ ضروری ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق ابتدائی فریم ورک ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا اور مختلف نکات پر بات چیت جاری ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ممکنہ مفاہمتی یادداشت میں خطے میں فوجی تناؤ کم کرنے، تجارتی راستے بحال کرنے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے سے متعلق متعدد تجاویز شامل ہیں، تاہم حتمی فیصلے کے لیے مزید مذاکرات متوقع ہیں۔
.png)
8 hours ago
3




English (US) ·