Times of Pakistan

امریکا ایران اختلافات برقرار: پاکستان کی ایک ماہ کی سفارتی کوششوں میں کب کیا ہوا؟

58 minutes ago 4
ARTICLE AD BOX

دونوں ممالک کے درمیان تجاویز پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ تعطل بھی برقرار ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری امن مذاکرات گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل کشیدگی اور سفارتی اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان میں شروع ہونے والی اس بات چیت کے باوجود فریقین کے درمیان اب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا جا سکا۔ جوہری پروگرام، پابندیاں اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات بنیادی اختلافات کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی تجاویز کو مختلف انداز میں پیش کر رہے ہیں، جس سے مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ تعطل بھی برقرار ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ پر محیط یہ سفارتی عمل کسی ایک سمت میں مستقل پیش رفت کے بجائے مسلسل رد و بدل اور غیر یقینی کیفیت کا منظر پیش کرتا رہا ہے، جہاں کبھی فریقین کے درمیان رابطوں میں بہتری دکھائی دی اور کبھی اختلافات نے بات چیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

ایران کی جانب سے جوابی تجاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ”میں نے ابھی ابھی ایران کے نام نہاد نمائندوں کی طرف سے دیا گیا جواب پڑھا ہے جو مجھے بالکل پسند نہیں آیا، یہ جواب مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔“

امریکی صدر کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ دی جس میں انھوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ضرورت پڑنے پر مقابلہ بھی کرے گا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جب بھی ہمیں لڑنے پر مجبور کیا جائے گا، ہم لڑیں گے اور جہاں کہیں بھی سفارت کاری کی گنجائش نظر آئے گی، ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سفارت کاری کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور ہمارا ہر فیصلہ قومی مفادات کی بنیاد پر ہوگا کیونکہ ایران نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز میں عالمی تیل و گیس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔

بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی اور 11 اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہوا، جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹے طویل براہ راست بات چیت ہوئی۔

تاہم اگلے روز 12 اپریل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا کہ فریقین کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، جس کی بڑی وجہ ایران کا اپنے جوہری پروگرام سے پیچھے نہ ہٹنا بتایا گیا۔

13 اپریل کو امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر پابندیوں کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔ 15 اپریل کو پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں تہران پہنچا تھا تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورۂ ایران کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سمیت ایران کی اعلٰی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی، جس میں خطے کی مجموعی صورتِ حال، کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بعد ازاں 17 اپریل کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر تناؤ بڑھا، جب ایران نے دوبارہ راستہ کھولنے کا عندیہ دیا اور امریکا نے اپنی پابندیاں برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔

18 سے 21 اپریل کے دوران مذاکراتی عمل غیر یقینی صورتِ حال کا شکار رہا، ایران نے اعتماد کی کمی اور امریکی رویے پر اعتراضات اٹھائے، جب کہ امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا۔ اسی دوران پاکستان نے ثالثی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

25 اپریل کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے امکانات پرگفتگو ہوئی، جسے سفارتی کوششوں کا اہم مرحلہ قرار دیا گیا۔ تاہم اسی روز امریکی وفد کا دورہ منسوخ کر دیا گیا۔

27 اپریل سے 1 مئی کے دوران ایران نے امریکا کو اپنی شرائط اور ریڈ لائنز سے آگاہ کیا، جب کہ واشنگٹن نے ایرانی تجاویز کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت بالواسطہ اور ٹیلی فونک سطح تک محدود ہوتی رہی۔

3 سے 7 مئی تک کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی، جب آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی صورتِ حال پر خطرات پیدا ہوئے اور دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے۔ تاہم اسی دوران فریقین کے درمیان کسی حد تک سفارتی رابطوں میں بہتری کے اشارے بھی ملے اور صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر ’پروجیکٹ فریڈم‘ روکنے کا اعلان کیا۔ جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید نیچے آئیں۔

9 سے 11 مئی کے دوران قطر اور پاکستان کی ثالثی کوششیں دوبارہ نمایاں ہوئیں۔ ایران نے نئی تجویز پیش کی، جس میں آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ شامل تھا۔ ایران نے اس تجویز کو معقول اور وسیع البنیاد قرار دیا، جب کہ امریکا نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

مجموعی طور پر ایک ماہ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، تاہم سفارتی رابطے، علاقائی ثالثی اور توانائی و آبی راستوں کے تنازعات نے اس عمل کو مسلسل متحرک رکھا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں معمولی سفارتی غلطی بھی پورے عمل کو تعطل کا شکار بنا سکتی ہے۔

تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد کے ماحول میں کوئی پائیدار معاہدہ ممکن بھی ہے یا نہیں؟ اور کیا علاقائی طاقتیں واقعی اس بحران کو کسی عملی حل کی طرف لے جانے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گی، یا یہ مذاکرات بھی ماضی کی کوششوں کی طرح ایک اور ناکام سفارتی باب ثابت ہوں گے؟

Read Entire Article