ARTICLE AD BOX
شائع 12 جولائ 2026 12:42pm
عوام کے لئے خوشخبری ہے کہ افسران کی مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کر دی گئی ہے اور انہیں عام شہری کی طرح بجلی بل ملیں گے۔
ذرائع کے مطابق لیسکو میں تقریباً 30 برس بعد گریڈ 18 سے 20 کے افسران کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔
ماضی میں گریڈ 18 کے افسران کو سالانہ 6 ہزار یونٹس، گریڈ 19 کے افسران کو 8 ہزار یونٹس جبکہ گریڈ 20 کے افسران کو 10 ہزار مفت یونٹس فراہم کیے جاتے تھے، تاہم یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مفت یونٹس کی سہولت ختم ہونے کے بعد لیسکو کے افسران کو بھاری بجلی کے بل موصول ہو رہے ہیں۔ ایک ایس ڈی او کو اپنے 10 مرلہ گھر کا 72 ہزار روپے کا بجلی کا بل موصول ہوا۔
متعلقہ ایس ڈی او کا کہنا ہے کہ 28 سالہ ملازمت کے دوران پہلی مرتبہ اتنا زیادہ بجلی کا بل ادا کرنا پڑے گا، جبکہ اب عام صارفین پر مہنگی بجلی کے بلوں کا بوجھ بہتر انداز میں محسوس ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے عدالتوں سے مفت بجلی کی سہولت بحال کروا لی ہے، تاہم لیسکو کے افسران کا مؤقف ہے کہ مختلف اداروں میں اس سہولت کی بحالی یکساں پالیسی کے بغیر مناسب نہیں۔
لیسکو افسران نے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو تمام اداروں کے لیے مفت بجلی کی سہولت ختم کی جائے یا پھر وزارتِ توانائی ملک بھر کی تمام بجلی کمپنیوں کے لیے ایک جیسی پالیسی نافذ کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مختلف مراعات پہلے ہی شامل ہوتی ہیں، اس لیے اس معاملے پر یکساں اور شفاف پالیسی اختیار کی جانی چاہیے۔
.png)
1 hour ago
2





English (US) ·