Times of Pakistan

اسپین کی تاریخ کی ہولناک ترین آگ؛ 12 افراد ہلاک، 23 لاپتہ، جنگلات راکھ کے ڈھیر میں تبدیل

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

شائع 11 جولائ 2026 08:57am

اسپین کے جنوبی علاقے اندلس میں لگنے والی خوفناک جنگلاتی آگ میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ 23 افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ آگ ملک کی تاریخ کی مہلک ترین جنگلاتی آگ میں سے ایک بن چکی ہے، جبکہ فائر فائٹرز مسلسل آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اندلس کے ایمرجنسی امور کے سربراہ انتونیو سانز نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص ہسپانوی شہری تھا جبکہ باقی افراد بظاہر غیر ملکی تھے۔

انتونیو کے مطابق ان افراد نے حکام کی جانب سے محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات پر عمل نہیں کیا اور اپنی گاڑیوں میں علاقے سے نکلنے کی کوشش کی، تاہم تیز ہواؤں کے باعث آگ انتہائی تیزی سے پھیل گئی اور وہ اس کی لپیٹ میں آگئے۔

انتونیو سانز نے کہا کہ متاثرین نے گاڑیوں میں فرار ہونے کی کوشش کی لیکن آگ نے انہیں گھیر لیا۔

حکام کے مطابق ایک گاڑی میں چار افراد کی جلی ہوئی لاشیں ملیں، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ برطانوی شہری تھے کیونکہ گاڑی کا اسٹیئرنگ دائیں جانب تھا۔

اس کے علاوہ آٹھ افراد اپنی گاڑیاں چھوڑ کر پیدل محفوظ مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر وہ ایسے راستے پر نکل گئے جو انخلا کے سرکاری منصوبے کا حصہ نہیں تھا اور جان کی بازی ہار گئے۔ کئی لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جائے گی۔

اندلس کے صدر خوان مانوئل مورینو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آگ بارود کی طرح پھیلی۔ یہ ان تیز ترین اور پیچیدہ ترین آگوں میں سے ایک ہے جن کا ہم نے کبھی سامنا کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ جمعے کے روز مزید تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

مورینو نے بتایا کہ لاپتا افراد میں کچھ ایسے ہائیکرز بھی ہوسکتے ہیں جو جنگل میں موجود تھے اور اچانک آگ کی زد میں آگئے۔ امدادی کارکنوں کو جائے وقوعہ سے پیدل سفر میں استعمال ہونے والی کئی لاٹھیاں بھی ملی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ افراد پیدل راستہ تلاش کرتے ہوئے لاپتا ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 2017 میں پڑوسی ملک پرتگال میں لگنے والی خوفناک جنگلاتی آگ سے مشابہت رکھتا ہے، جہاں شدید گرمی کے دوران 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے نصف اپنی گاڑیوں میں جل کر جان سے گئے تھے۔

ماہرین کے مطابق اس سال اسپین میں گرمی کی شدید لہروں نے ملک کے بڑے حصے کو خشک کر دیا ہے، جس کے باعث معمول سے پہلے ہی جنگ میں آگ لگنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

یورپی فاریسٹ فائر انفارمیشن سسٹم کے مطابق رواں برس اب تک تقریباً 57 ہزار ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں کی سالانہ اوسط کا تقریباً نصف ہے، جبکہ یورپی یونین میں اس سال جلنے والے مجموعی رقبے کا 40 فیصد حصہ صرف اسپین میں ہے۔

سالامانکا سے تعلق رکھنے والے جنگلاتی فائر فائٹر رومان گارشیا نے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی وی ای سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر ایسی آگ اگست میں دیکھنے کو ملتی تھی، لیکن اب پودے جلد خشک ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔

گزشتہ سال اگست میں ریکارڈ گرمی کی لہر کے باعث اسپین میں گزشتہ 30 برس کی بدترین جنگلاتی آگ لگی تھی، جس میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر رقبہ جل گیا تھا، جو لندن کے رقبے سے تقریباً دوگنا بنتا ہے۔

اس وقت اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اعتراف کیا تھا کہ جنگلاتی آگ سے بچاؤ کے اقدامات واضح طور پر ناکافی تھے اور جنگلات کے انتظام میں بھی خامیاں موجود تھیں۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ اس پیمانے کی آگ کو روکنے کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑا، کیا جائے گا۔

اب تازہ واقعے پر وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا، مجھے بے حد دکھ اور گہرا صدمہ پہنچا ہے۔

دوسری جانب دنیا کے مختلف ممالک سے متاثرہ افراد کے اہل خانہ سوشل میڈیا اور مقامی فورمز پر اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے اپیلیں کر رہے ہیں۔ ایک آئرش خاتون نے بتایا کہ ان کی بیٹی اپنی سرخ رنگ کی فورڈ فیسٹا گاڑی اور اپنے پالتو کتے کے ساتھ لاپتا ہے، جبکہ امریکا سے ایک خاتون نے کہا کہ ان کا بھائی ان 10 افراد کے گروپ میں شامل تھا جس نے ایک وادی کے راستے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ممکنہ طور پر سڑک کنارے کھائی میں گرنے والی بجلی کی ٹوٹی ہوئی تار سے لگی، تاہم بجلی فراہم کرنے والی کمپنی اینڈیسا کے ترجمان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ متعلقہ تار میں بجلی موجود ہی نہیں تھی۔

Read Entire Article