Times of Pakistan

''اتنا پروٹوکول تو وزیراعظم کو بھی حاصل نہیں،‘‘ انمول پنکی کے پروٹوکول پر سینیٹ کمیٹی برہم

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

ایک سینیٹر کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکتی، مگر ایک ملزمہ کے ساتھ 20 گاڑیوں کا پروٹوکول موجود ہے: سیف اللہ ابڑو

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے ملزمہ انمول پنکی کو فراہم کیے گئے سیکیورٹی پروٹوکول کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے معاملے کی مزید تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس پروٹوکول کی وجوہات اور ذمہ داران سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں انمول پنکی کیس اور تمباکو پر ٹیکس چوری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے انمول پنکی کو فراہم کیے گئے سیکیورٹی پروٹوکول پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک ملزمہ کے ساتھ بیس بیس پولیس موبائل گاڑیاں چل رہی ہیں، جب کہ اتنا پروٹوکول تو وزیراعظم کو بھی حاصل نہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے خلاف کچھ نہیں ہوگا بل کہ انہیں جلد صدارتی ایوارڈ دے دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک سینیٹر کو مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکتی تو ایک ملزمہ کو غیر معمولی پروٹوکول کیسے دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انمول پنکی کی پشت پناہی کرنے والے عناصر تاحال سامنے نہیں آئے اور اس کیس پر کوئی بھی پاکستانی مطمئن نہیں، اس لیے ذمہ دار افراد کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں ڈی آئی جی ساؤتھ سید علی رضا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انمول پنکی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق کیس میں دو نائجیرین باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جب کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمہ کے نیٹ ورک سے وابستہ دو خواتین نے نائجیرین شہریوں سے شادیاں کر رکھی تھیں اور انہی کے ذریعے منشیات منگوا کر فروخت کی جاتی تھی۔

اجلاس میں تمباکو پر ٹیکس چوری اور آگاہی مہم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ غلط معلومات فراہم کرنے پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف بی آر کے چیف آپریشنز افسر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کی اور متعلقہ وزیر کو خط لکھ کر انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش بھی کی۔

کمیٹی نے وزارت اطلاعات سے تمباکو سے متعلق ٹی وی اشتہارات اور ایف بی آر کی آگاہی مہم کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ رینجرز کی موجودگی کے باوجود اگر ٹیکس چوری جاری ہے تو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے، جب کہ سینیٹر دلاور نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے باوجود ٹیکس چوری اور تمباکو کی غیر معمولی کم قیمت تشویش کا باعث ہے۔

Read Entire Article