ARTICLE AD BOX
ایک جانب امریکا اس اہم عالمی آبی گزرگاہ میں بحری ٹریفک جاری رہنے کا دعویٰ کر رہا ہے جب کہ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہاں سے جہازوں کی آمدورفت ممکن نہیں۔
شائع 12 جولائ 2026 07:06pm
آبنائے ہرمز کی صورت حال پر ایران اور امریکا کے درمیان متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ تمام قانونی بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے، جب کہ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایران کی متعلقہ اتھارٹی نے اعلان کیا کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت ممکن نہیں۔
اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور اس سے قانونی طور پر گزرنے والے تمام بحری جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار اور تعینات ہیں کہ ایران کی جانب سے مبینہ دھمکیوں، ہراسانی، جارحانہ اقدامات اور یکطرفہ اعلانات کے باوجود بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت برقرار رہے۔
سینٹ کام نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں رکھتا اور بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
اس سے قبل امریکی بحریہ کے زیر نگرانی کام کرنے والے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر (جے ایم آئی سی) نے بھی کہا تھا کہ عمان کے ساحل کے ساتھ واقع جنوبی بحری راستہ دونوں سمتوں میں بحری آمدورفت کے لیے کھلا ہے تاہم اس نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی خطرات کی سطح بدستور انتہائی سنگین ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نئے نظام کی نگرانی کرنے والی ایرانی اتھارٹی نے امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کا گزرنا ممکن نہیں۔
ایرانی اتھارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ جیسے ہی خطے میں استحکام اور حالات معمول پر آئیں گے، بحری آمدورفت سے متعلق موصول ہونے والی تمام درخواستوں کا مقررہ طریقہ کار کے مطابق جائزہ لیا جائے گا اور ضروری اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک جانب امریکا اس اہم عالمی آبی گزرگاہ میں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہنے کا دعویٰ کر رہا ہے جب کہ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہاں سے جہازوں کی آمدورفت ممکن نہیں۔ اس طرح آبنائے ہرمز کی صورت حال پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان متضاد مؤقف برقرار ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس صورت حال کے باعث عالمی بحری تجارت، توانائی کی ترسیل اور خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات بدستور برقرار ہیں۔
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·