ARTICLE AD BOX
شائع 16 مارچ 2026 08:54am
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے اتحادی آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد فراہم نہیں کرتے تو نارتھ ایٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کو مستقبل میں بہت خراب صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تعاون نہیں کرتے تو نیٹو کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی اپنی متوقع ملاقات کو مؤخر بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بیجنگ پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ چین اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوانے میں کردار ادا کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ اور چین خلیج فارس سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جبکہ امریکا کا انحصار اس خطے کے تیل پر نسبتاً کم ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جو ممالک اس آبی راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں کہ وہاں کوئی خراب صورتحال پیدا نہ ہو۔
امریکی صدر نے کہا یہ بالکل مناسب ہے کہ وہ لوگ جو اس آبنائے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ بھی برا نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس معاملے پر مثبت ردعمل سامنے نہیں آتا یا منفی جواب دیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نیٹو کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اس آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد یہ گزرگاہ عملاً بند ہو گئی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمت جو پہلے تقریباً 65 ڈالر فی بیرل تھی، وہ بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
.png)
1 hour ago
2







English (US) ·