Times of Pakistan

آبنائے ہرمز میں کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا: یو اے ای

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

ران نے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت کی ہے: اماراتی صدارتی مشیر انور قرقاش

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، ایران نے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خلیجی ممالک کے خدشات کو اجاگر کرتے ہوئے اماراتی صدارتی مشیر انور قرقاش نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے بین الاقوامی قوانین اور عالمی اتفاق رائے ہی بنیادی ضمانت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے اپنے پڑوسیوں کے خلاف جارحیت کے بعد کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ دو ماہ سے جاری ایران امریکا تنازع کے باوجود اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے، جہاں ایک جانب ایران کی ناکہ بندی جاری ہے تو دوسری جانب امریکی بحریہ ایرانی تیل کی برآمدات روک رہی ہے۔ اس صورت حال کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہو چکی ہے، جس سے عالمی توانائی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی سست روی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اگرچہ 8 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے ممکنہ نئے فوجی حملوں سے متعلق بریفنگ دیے جانے کی خبروں نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی اور تیل کی قیمتیں ایک موقع پر چار سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔

ایرانی ذرائع کے مطابق ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر ایران نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا ہے اور کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے آئندہ حکمت عملی سے متعلق کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا جب کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کی جانب سے بھی نئے مذاکرات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے خطے میں امریکی اڈوں، تنصیبات اور امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جب کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں کارروائیاں کیں۔

ادھر امریکی صدر کو جنگ کے خاتمے یا اس میں توسیع کے لیے کانگریس کو قائل کرنے کی ڈیڈ لائن کا بھی سامنا ہے تاہم امریکی انتظامیہ پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ اپریل کی جنگ بندی کے باعث دشمنی ختم ہو چکی ہے۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی اور توانائی مارکیٹس غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں جب کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے اور ہفتہ وار بنیاد پر نمایاں اضافے کی جانب گامزن ہے۔

ایران نے مذاکرات سے فوری نتائج کی توقعات کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے امریکی حملے کا سخت اور طویل ردعمل دیا جائے گا۔

ادھر امریکا اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کے لیے ممکنہ اتحاد کے قیام پر بھی غور کر رہے ہیں تاہم حتمی فیصلے کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔

Read Entire Article